تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 422
کی طرف سے استعمال کیا گیا ہے وہاں تو اس کے معنے عام ہوتے ہیں یعنی کوئی نشان جو کسی صداقت پر دلیل ہو۔خواہ وہ عذاب ہو یا انعام۔خواہ کوئی ایسا نشان ہو جو اِن دونوں قسموں میں سے نہ ہو اور صرف ایک علامت کے طور پر ہو۔لیکن جب کفار کے مُنہ سے یہ لفظ بیان کیا جائے تو اس کے معنے جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے ہمیشہ عذاب کے ہوتے ہیں پس تَاْتِیْنَااٰیَۃ سے مراد یہ ہے کہ ہم پر ایسا عذاب نازل ہو جو ہمیں تباہ کر دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہاں تمہارا یہی کام تھا کہ تم اس قسم کے اعتراض کرتے اس لئے کہ جن لوگوں کے تم جانشین ہو وہ بھی یہی کہتے آئے ہیں۔کیونکہ جس طرح نبی کا نبی مثیل ہوتا ہے اسی طرح اس نبی کے وقت کے کافر پہلے نبیوں کے کافروں کے مثیل ہوتے ہیں۔پس اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی نشان نہیں دکھایا تو ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے دشمنوں کے مثیل تھے اور اگر حضرت عیسیٰ ؑ کو اُن کے دشمن کہتے تھے کہ یہ کوئی نشان نہیں لایا تو سچ کہتے تھے کیونکہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کے دشمنوں کے مثیل تھے۔اور اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اُن کے مخالفوں نے یہی کہا تو ان کا کہنا حق تھا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دشمنوں کے مثیل تھے اور اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُن کے نہ ماننے والوں نے یہ کہا تو اُن کا حق تھا کیونکہ وہ حضرت نوح ؑ کے دشمنوں کے مثیل تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِن کے دل مل گئے ہیں۔اس لئے کہتے ہیں کہ کوئی نشان نہیں لایا۔حالانکہ ماننے والوں کے لئے بہتیرے نشان ہیں۔ہاں نہ ماننے والوں کے لئے کوئی نہیں۔تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْسے ظاہر ہے کہ انبیاء کی جماعتوں اور اُن کے مخالفین کا ایک ہی طریق عمل ہوتا ہے نبیوں کی مشابہت نبیوں سے۔اُن کی جماعتوں کی مشابہت پہلی جماعتوں سے۔اور اُن کے مکفرین کی مشابہت پہلے مکفرین سے ہوتی ہے۔جس طرح انبیاء اور اُن کی جماعتیں ایک ہی راستہ پر قدم مارتی چلی جاتی ہیں اسی طرح ان کے مخالفین بھی اپنے پیشروؤں کی سنتوں پر عامل ہوتے ہیں خصوصاً جن انبیاء کی آپس میں مشابہت اور مماثلت ہو اور ایک ہی قسم کے کام ان کے سپرد ہوں اُن کے حالات تو آپس میں بہت ہی ملتے جلتے ہیں۔قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ میں بتایا کہ عذاب تو تم صداقت معلوم کرنے کے لئے مانگتے ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے بہت سی آیات ظاہر کر دی ہیں جو اس رسول کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں بشرطیکہ تمہاری نیت ماننے کی ہو اور تم ضِد اورتعصب سے کام نہ لو۔پس اگر تمہارا مطالبہ دیانت داری پر مبنی ہے تو تم اُن دلائل و براہین پر کیوں غور نہیں کرتے اور صرف عذاب کا مطالبہ ہی کیوں کرتے ہو۔اگر انبیاء کی بعثت کی غرض یہ ہوتی کہ لوگوں کو تباہ کیا جائے تو اِدھر نبی آتا اور اُدھر خدا تعالیٰ تمام منکروں کو تباہ کر دیتا۔لیکن اگر ایسا ہوتا تو پھر مانتا کون؟ اس لئے