تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 418

جائے بلکہ وہ صرف یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ ایسا ہو جائے اور پھر کوئی چیز اس کے فیصلہ میں مزاحم نہیں ہوتی۔اسی طرح یہ آیت کسی خاص وقت کے تعیّن پر بھی دلالت نہیں کرتی بلکہ کم یا زیادہ جتنا وقت بھی کسی چیز کی تکمیل کے لئے ضروری ہو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے بعد وہ اتنے عرصہ میں اپنی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے۔غرض اِن آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسیح ؑ کی ابنیت کی پانچ دلائل سے تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں وہ اس قسم کی تمام احتیاجوں سے بالا اور ارفع ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اناجیل میں مسیح کی نسبت خدا تعالیٰ کے بیٹے کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن بائیبل کا معمولی مطالعہ رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ یہود میں ابن اللہ کے معنے خدا کے پیارے یا اس کے نبی کے ہوتے ہیں۔اور یہ لفظ متعدد مقامات پر اوروں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔اس میں مسیح ؑ کی کوئی خصوصیت نہیں۔چنانچہ لوقاباب۲۰آیت۳۴ تا ۳۶ میں آتا ہے۔’’ یسوع نے جواب میں اُن سے کہا اس جہان کے لوگ بیاہ کرتے اور بیاہے جاتے ہیں لیکن جو لوگ اُس جہان کے اور قیامت کے شریک ہونے کے لائق ٹھہرتے نہ بیاہ کرتے ہیں اور نہ بیاہے جاتے۔پھر نہیں مرنے کے۔کیونکہ وے فرشتوں کی مانند ہیں۔اور قیامت کے بیٹے ہو کر خدا کے بیٹے ہیں۔‘‘ اس جگہ حضرت مسیح ؑنے ان تمام لوگوں کو جو اپنی زندگی دین کے لئے وقف کرتے ہیں خدا کے بیٹے قرار دیا ہے۔اسی طرح متی باب ۵ آیت ۹ میں لکھا ہے۔’’مبارک وے جو صلح کرانے والے ہیں کیونکہ وے خدا کے فرزند کہلائیں گے۔‘‘ اس جگہ حضرت مسیح ؑ نے فرمایا ہے کہ صلح کرانے والے خدا کے فرزند کہلاتے ہیں۔پھر متی باب۵ آیت۴۵ میں لکھا ہے۔’’تاکہ تم اپنے باپ کے ، جو آسمان پر ہے فرزند ہو۔‘‘ اس میں تمام مومنوں کو خدا تعالیٰ کا فرزند اور بیٹا کہا گیا ہے۔متی باب۵ آیت۴۸ میں آتا ہے۔’’پس تم کامل ہو۔جیسا تمہارا باپ ،جو آسمان پر ہے کامل ہے۔‘‘ اس میں بھی مسیح علیہ السلام سب مومنوں کو خدا کے بیٹے قرار دیتے ہیں۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں بھی سب مومنوں کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا گیا ہے۔لکھا ہے۔’’تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو۔‘‘ (استثنا باب۱۴ آیت۱)