تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 417

پھر فرمایا وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۔اللہ تعالیٰ جب کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر کوئی چیز اس کے ارادہ میں مزاحم نہیں ہو سکتی۔وہ اِدھر کُنْ کہتا ہے اور اُدھر اس کا فیصلہ دنیا میں نافذ ہو جاتا ہے۔اس میں ایک تو اس امر کی طرف اشارہ فرمایا کہ نہ صرف پیدائشِ عالم خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بلکہ فنا بھی اُسی کے اختیار میں ہے اور اس غرض کے لئے بھی اُسے کسی بیٹے یا مددگار کی ضرورت نہیں۔اس شبہ کا ازالہ اس لئے کیا گیا ہے کہ ممکن تھا بعض لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا ہو جاتا کہ خدا تعالیٰ نے سب چیزیں پیدا تو کر لیں اور وہ سب کی سب خدا تعالیٰ کے قانون کی بھی تابع ہیں لیکن ممکن ہے اس عالمِ موجودات کو فنا کرنے کے لئے اُسے کسی ساتھی اور مددگار کی ضرورت ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا یہ خیال بھی درست نہیں۔فنا بھی اُسی کے اختیار میں ہے پس اس غرض کے لئے بھی اُسے کسی بیٹے کی ضرورت نہیں۔عیسائیت کے ذکر میں وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ فرما کر عیسائیوں کے اس عقیدہ پر بھی ایک لطیف رنگ میں چوٹ کی گئی ہے کہ مسیح ؑ مصلوب ہو گیا تھا۔فرماتا ہے جس خدا نے اپنے بیٹے کو جسے تم خدا تسلیم کر رہے ہو صلیب پر مار دیا اُسے دنیا کے فنا کرنے میں کیا مشکل پیش آسکتی ہے وہ سب کو آسانی سے موت کے گھاٹ اُتار سکتا ہے اور کوئی چیز اس کے فیصلہ میں روک نہیں بن سکتی۔اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ الہام الہٰی کا اجرا بھی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور جب وہ کوئی نیا کلام دنیا میں نازل کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے نزول کو روک نہیں سکتی۔اس میں عیسائیوں کے اس نقطہ نگاہ کا ردّ کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح ؑ پر جو آخری الہام نازل ہونا تھا وہ ہو چکا اب آئندہ کے لئے کسی پر کوئی نیاالہام نازل نہیں ہوسکتا۔مسیحی کتب میں حضرت مسیح ؑ کو کلام کہا گیا ہے اور قرآن کریم نے بھی ان کے لئے کلمہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔عیسائی اس کے غلط معنے کرتے ہوئے کہاکرتے ہیں کہ کلمہ اور کلام کے چلے جانے کے بعد الہام کا سلسلہ بند ہوچکا ہے مگر فرمایا تمہارا یہ خیال غلط ہے۔جس طرح وہ پہلے الہام الٰہی نازل کرتا رہا۔اسی طرح وہ آئندہ بھی کرتا رہے گا۔اور جس طرح پہلے روحانی نظام کے قیام کے لئے اُسے کسی مددگار کی ضرورت نہیں تھی اسی طرح آئندہ بھی اسے کسی بیٹے یا مددگار کی ضرورت نہیں۔کُنْ فَیَکُوْنَ کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ جب کسی چیز کا اردہ کرتا ہے تو وہ فوری طور پر ایک آن میں پیدا ہو جاتی ہے۔بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے اس امر کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ انسانوں کی طرح حرکت کرے اور اس کام کے کرنے کے لئے چل کر