تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 411

وَاسِعٌ۔بڑی وسعت والا یا بڑی وسعت بخشنے والا۔(اقرب) تفسیر۔عیسائی لوگ جو ہمیشہ قرآن کریم پر کوئی نہ کوئی اعتراض کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں وہ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے آہستہ آہستہ مسلمانوں کا قبلہ بدلا ہے اور زیادہ تر افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض مسلمان مفسرین نے بھی اپنی ناواقفیت کی وجہ سے انہیں اس اعتراض میں مدد دی ہے۔حالانکہ یہ آیت اُن آیات میں سے سمجھی جاتی ہے جنہیں منسوخ قرار دیا جاتا ہے۔وہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا کہ مشرق اور مغرب سب خدا کا ہے۔اس لئے جدھر چاہو منہ کر کے نماز پڑھ لیا کرو پھر حکم دیا کہ بیت المقدس کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھو اور آخر میں یہ حکم دے دیا کہ بیت اللہ کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھو۔گو یا اُن کے نزدیک یہ پہلی آیت ہے جس میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ تم جدھر چاہو منہ کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔لیکن پھر اسے منسوخ کر دیا گیا۔حالانکہ اس آیت کا قبلہ کے ساتھ دُور کا بھی تعلق نہیں۔نہ تو اس آیت میں نماز کا ذکر ہے اور نہ اس آیت سے پہلے اس کا کوئی ذکر ہے۔ہاں مساجد کا ذکر ضرور آتا ہے مگر ان کے ذکر کے بعد لِلّٰہِ المَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ کے کوئی معنے نہیں بنتے کیونکہ مساجد کے ذکر کے ساتھ ایک مخصوص جہت کی تعیین بھی ضروری تھی تاکہ سب مسلمان ایک طرف مُنہ کر کے نماز پڑھتے اور ایسا نہ ہو تاکہ کسی کا مُنہ ایک طرف ہوتا اور کسی کا دوسری طرف۔مگر مساجد کے ذکر کے بعد یہ کہہ دیا گیا کہ مشرق و مغرب سب خدا کا ہے تم جدھر چاہو مُنہ کر لیا کرو۔اور پھر اگلی آیت میں بھی نہ نماز کا ذکر آتا ہے اور نہ قبلہ کا پس یہ معنے کسی صورت میں بھی درست نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی آیات سے یہ مضمون بیان کیا جا رہا ہے کہ یہود اور نصاریٰ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سوائے ان کے کسی اور مذہب میں نجات نہیں اور مشرک جو کسی دین کے پابند نہیں یاد ہر یہ جو خدا تعالیٰ کے قائل نہیں۔یہ لوگ بلاوجہ مسلمانوں کی عبادت گاہوںمیں دخل اندازی کرتے ہیں اور انہیں خدائے واحد کے آگے سر بسجود ہونے نہیں دیتے۔اللہ تعالیٰ ایسے تمام لوگوں کو ذلیل اور رسوا کرے گا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے گھر کو ویران کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور چونکہ قاعدہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی سے کوئی دولت چھینتا ہے تو پھر کسی اور کو جو اس کا حقدار ہوتا ہے دے دیتاہے اور چونکہ اس قسم کے افعال کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ ان کے اموال اور جائیدادیں چھین لی جائیں اور انہیں ذلیل کیا جائے۔اس لئے لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی کہ تم اپنی بے بسی پر غم نہ کھائو مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے۔ہم ان لوگوں سے حکومت چھین لیں گے اور اُن کی جگہ تمہیں مشرق و مغرب کا حکمران بنا دیں گے۔