تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 410

پس اگر بعض مجرموں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں بھی قتل کر دینے کا حکم دیا تھا تو دوسری مسجدوں کی خانہ کعبہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے کہ اُن میں خلاف آئین کام کرنے والے لوگوں کو قانون سے بالا سمجھا جائے۔پس مساجد تقویٰ کے قیام کے لئے قائم کی گئی ہیں نہ کہ قانون شکنی کے لئے۔اگر مسجد میں بھی قانون شکنی کے اڈے بن جائیں تو پھر شیطان کے لئے تو کوئی گھر بھی بند نہیں رہتا جن گھروں کو خدا تعالیٰ نے امن کے لئے، تسکینِ قلوب کے لئے، روحانیت کے لئے، تقویٰ کے قیام کے لئے، تعاون اور اتحاد باہمی کے لئے بنایا ہے ان گھروں کو مسلمانوں میں فتنہ ڈلوانے کا ذریعہ بنانا یا اُن گھروں کو حکومت سے بغاوت کرنے کا ذریعہ بنانا یا ان گھروں کو فتنہ و فساد کی بنیاد رکھنے کی جگہ بنانا ایک خطرناک ظلم ہے جس کی اسلام کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دیتا۔اِس آیت میں ان لوگوں کے لئے جو عبادت گاہوں میں خدا تعالیٰ کا نام بلند کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں۔دو۲ سزائوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک یہ کہ انہیں دنیا میں ذ ّلت نصیب ہو گی اور دوسرے آخرت میں انہیں سخت سزا ملے گی۔ذ ّلتکی سزا اس لحاظ سے تجویز کی گئی ہے کہ مساجد اور معابد بنانے کی صرف ایک ہی غرض ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ان میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔پس جو شخص اِن میں لوگوں کو خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے سے روکتا ہے وہ دنیا کی نگاہ میں اپنے لئے ذ ّلت اور رسوائی کے سامان پیدا کرتا ہے جو اس فعل کی ایک طبعی سزا ہے۔یہ الفاظ مشرکین مکہ کے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی پر بھی مشتمل ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو کعبہ میں داخل ہونے سے روکا اور آخر جب مکہ فتح ہوا تو انہیں ذ ّلت اور رسوائی کے عذاب سے دو چار ہونا پڑا۔وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اور مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں۔اس لئے جدھر بھی تم رخ کرو گے ادھر ہی اللہ کی توجہ ہوگی۔اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۰۰۱۱۶ اللہ (تعالیٰ) یقیناً وسعت دینے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔وَجْہٌ کے تین معنے ہیں۔(۱) نَفْسُ الشَّیْ ءِ یعنی کسی چیز کی ذات(۲)توجہ(۳) مُنہ۔پس فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ کے معنے ہوئے۔اُدھر ہی اللہ کو پائو گے(۲)اُدھر ہی اللہ کی توجہ پائو گے(۳) اُدھر ہی اللہ کا مُنہ پائو گے۔(اقرب)