تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 382
کہ میرے بیٹے کے ساتھ یہ تیرا بیٹا وارث ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے تو اِس بات کو بُرا منایا۔اور اس کام سے رُکے۔مگر خداتعا لیٰ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مکہ سے ظاہر کرنا چاہتا تھا اُس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی کی کہ جو کچھ تیری بیوی سارہ کہتی ہے وہی کر۔(پیدائش باب۲۱ آیت۱۲)چنانچہ خدا کے حکم کے ماتحت حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعٰیل ؑ کو وادیٔ حرم میں چھوڑ گئے اور سارہ اور اسحاق ؑ کے سپرد کنعان کا علاقہ کر دیا گیا۔حضرت اسمعٰیل ؑ کی نسل نے مکہ میں بڑھنا شروع کیا اور وہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اسمعٰیل کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔مگر یہ رقابت یہیں ختم نہیں ہو گئی بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کی پیدائش پر ان کی ماں سے کہا تھا۔اُسی طرح ہوا کہ ’’اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے‘‘۔(پیدائش باب۱۶ آیت۱۲) یعنی ایک زمانہ تک اسماعیلی نسل تھوڑی ہو گی اور اسحاق ؑ کی نسل زیادہ ہو گی اور وہ سب کے سب مل کر اسماعیلی سلسلہ کی مخالفت کریںگے۔اور کوشش کریں گے کہ وہ کامیاب نہ ہو قرآن مجید نے اس کا یوں ذکر فرمایا ہے کہ وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُُّّ۔یعنی اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسمعٰیلی نسل یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اُسے چھوڑ کر پھر کافر ہو جائیں اور یہ بغض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قصور کی وجہ سے نہیں بلکہ اُن کے اپنے دلوں سے پیدا شدہ بغض کی وجہ سے ہے اور رقابت کی وجہ سے ہے۔وہ سارہ اور ہاجرہ کی لڑائی کو دو ہزار سال تک لمبا لے جانا چاہتے ہیں۔پس اُن کی اس خواہش کی بنیاد کسی جذبۂ خلوص پر نہیں بلکہ اُن کے حسد پر ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر تم اُن سے نیکی اور تقویٰ میں بڑھ گئے ہو۔پس اب وہ اس کا ازالہ اس رنگ میں کرنا چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی ایمان سے محروم کر دیں۔حالانکہ اگر وہ خود ایمان لے آئیں تو وہ بھی مسلمانوں کے دوش بدوش نیکی اور تقویٰ میں ترقی کر سکتے ہیں۔مگر اُن کے دلوں میں یہ جلن ہے کہ تم نے مان لیا اور وہ محروم رہ گئے۔اور اس حسدا ور بغض کی وجہ سے وہ تمہاری کسی نیکی اور خوبی کو برداشت نہیں کر سکتے۔حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ دوسرا مفعول لہٗ بھی ہو سکتا ہے۔اِس لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ یہ جذبہ خود اُن کے اپنے نفس کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔تمہارا کوئی فعل اس کا باعث نہیں۔دنیا میں حسد دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ جو باعث کے لحاظ سے اچھا ہوتا ہے۔اور دوسرا وہ جو باعث کے لحاظ سے بھی بُرا ہوتا ہے اور نفس کے لحاظ سے بھی بُرا ہوتا ہے۔مثلاً اگر کوئی غیرمسلم مال و دولت میں بڑھ جائے اور کوئی مسلمان اس پر حسد کرے تو یہ حسد اس وجہ