تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 377
آیت کے مطالب کی تفسیر کو لیتا ہوں پہلی آیت میں جنت اور اس دنیا کی نعمتو ںکی مشابہت بیان کی گئی تھی تاکفار کا یہ اعتراض دُور ہو کہ ہمارے پاس تو فلاں فلاں نعمتیں ہیں اور مسلمانوں کے پاس نہیں اور تا مسلمانو ںمیں سے کمزور لوگوں کے ذہن میں بھی جنت کا ایک تمثیلی نقشہ آ جائے۔لیکن دوسری طرف قرآن کریم میں صاف طو رپر دوسرے مقامات میں یہ بتا دیا گیا تھا کہ اس دنیا کی زندگی اور اُخروی زندگی میں کوئی نسبت ہی نہیں۔وہ اعلیٰ روحانی زندگی ہے او ریہ مادہ سے گھری ہوئی زندگی اور کفار اس حقیقت سے واقف تھے۔پس اس بظاہر نظر آنے والے تضاد کو دُور کرنا بھی ضروری تھا تا مخالفوں کا اعتراض نہ ہو کہ آخر ایسی دو مغائر باتوں کی مشابہت ظاہر کرنے سے مطلب کیا؟ مچھر کی مثال دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے مقابلہ کے لئے بیان کی گئی ہے اگر محض ایک ادنیٰ مشابہت کا اظہار مراد ہے تو اللہ تعالیٰ جیسی اعلیٰ ہستی کو ایسی معمولی سی مشابہت کے بیان کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ سو اس سوال اور اس کے جواب کو اللہ تعالیٰ اس آیت زیر تفسیر میں بیان فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ بعض لوگ اعتراض کریںگے کہ جنت و دوزخ کا جو یہ تمثیلی حال قرآن کریم نے بیان کیا ہے اس سے غرض کیا ہے؟ اگر یہ جنت اور دوزخ کا صحیح نقشہ نہیں تو اس کے بیان کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اِن باتوں کے بیان کرنے سے نہیں رُک سکتا جو خواہ تمثیل کے رنگ میں ہوں مگر ہیں مفید اور ان تمثیلوں کے بیان کرنے سے بھی انسانی علم میں ترقی ہوتی ہے اور مومن کچھ نہ کچھ اندازہ اِس بیان سے اپنے ذہنوں میں لگا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ امر جس کا ذکر کیا گیا ہے ضرور اِسی طرح ہو کر رہے گا جس طرح خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے پس اگراس کی پُوری حقیقت سمجھ میں نہیں آتی تو کوئی حرج نہیں اس کا ایک اندازہ تو ہو گیا جس سے ایمان کو تقویت حاصل ہوئی۔یَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ کی تشریح فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ۔یَعْلَمُوْنَ اس جگہ جاننے کے معنوں میں نہیں بلکہ یقین رکھنے کے معنوں میں ہے کیونکہ اس کے دو مفعول آئے ہیں (اور جب عَلِمَ کے دو مفعول ہوں تو اس کے معنے یقین کرنے کے ہوتے ہیں نہ کہ جاننے کے) اور مراد یہ ہے کہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے۔حق کے معنے صداقت کے ہیں ایسی صداقت جو بالکل پکیّ اور بغیر ُشبہ کے ہو۔یہ مصدر ہے اور مصدر کبھی اسم فاعل او رکبھی اسم مفعول کے معنے بھی دیتا ہے (رَضِیَ ’’شرح کا فیہ‘‘ بحث مصدر) پس اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ مومن خوب سمجھتے ہیں کہ یہ بات ہو کر رہنے والی ہے اور یہ بھی کہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت شدہ ہے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ گو نہایت باریک تشبیہات سے جنت کا ذکر کیا گیا ہے جو درحقیقت اس کا حقیقی