تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 369
تمام مخالفین مِل کر بھی اگر اس میں کوئی اختلاف ثابت کرنا چاہیں تو نہیںکر سکتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا شخص جو علمی حیثیت رکھتا ہو یا کوئی مخالفِ جماعت قرآن کریم میں اختلاف ثابت کرنا چاہے تو ہم قرآن کریم سے ہی اُس کا ردّ کر سکتے ہیں۔غرض اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گزشتہ زمانوں میں جو پیغام آتے رہے ہیں یا آئندہ آئیں گے ان سب کے متعلق ہمارا ایک قانون جاری ہے اور وہ یہ ہے کہ کبھی تو وہ اپنی ضرورت کو پورا کر لیتے ہیں اور اِس قابل ہوتے ہیں کہ انہیں مٹا دیا جائے اور اُن کی جگہ ایک نیا نظام آسمان سے اُتارا جائے اور کبھی لوگ انہیں بُھلا دیتے ہیں اور صرف اس امر کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو نظام لوگوں کی غفلت کی وجہ سے الہٰی نظام کی جگہ قائم ہو گیا ہے اُسے مٹا کر پھر نئے سرے سے وہی پہلا الٰہی نظام قائم کیا جائے۔جب الہٰی نظام ہی اپنی ضرورت پوری کر کے مٹائے جانے کے قابل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اُس سے بہتر نظام دنیا میں بھجوادیتاہے۔اور جب وہ نظام تو صحیح ہو اور لوگوں نے اُسےبھلا دیا ہو تو اللہ تعالیٰ اُسی پہلے نظام کو بجنسہٖ پھر دنیا میں قائم کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں قدرتیں حاصل ہیں۔پھر فرماتا ہے اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ہم ایک انقلاب عظیم کے پیدا کرنے کے لئے اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین پیدا کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کفار کو صرف اس امر کا تو غصہ نہ تھا کہ اُن کے خیالات کے خلاف ایک نیا خیال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیوں پیش کرتے ہیں۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا اور جس کا تصوّر کر کے بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی تھی وہ یہی تھی کہ کہیں قرآن کی حکومت قائم نہ ہو جائے۔پس فرمایا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ۔اے انکار کرنے والو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے پس جب اس نے اس بادشاہت کو ایک نئے رنگ میں قائم کر نے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کے فیصلہ کے پورا ہونے کو کون روک سکتا ہے۔غرض قرآنِ کریم نے مذاہب کے بارہ میں یہ قاعدہ بتایا ہے کہ ہر مذہبی نظام جو قائم کیا جاتا ہے۔وہ کچھ عرصہ کے بعد یا تو ناقابلِ عمل ہو جاتا ہے یا لوگ اُسے بھول جاتے ہیں۔ناقابل عمل وہ دو طرح ہوتا ہے یا لوگ اُس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں یا زمانہ کے مطابق اُس کی تعلیم نہیں رہتی۔یعنی یا تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس تعلیم میں تصرف کر دیتے