تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 344
کرتے ہیں کہ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ (البقرۃ:۱۲ ) ہم تو اصلاح کی غرض سے کھڑے ہوئے ہیں۔اس پر کمزور ایمان والے کہتے ہیں۔کہ یہ لوگ بڑی اچھی بات کےلئے کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ان کی تائید کرنی چاہیے۔اسی طرح وہ بھی لوگوں کو ملمع سازی کی باتیں سکھایا کرتے تھے۔وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ کے دو طرح معنے ہو سکتے ہیں۔(۱) اوّل اس طرح کہ واؤعطف کےلئے ہو۔اِس صورت میں مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُکے ساتھ مل کر اِس آیت کے یہ معنے بنتے ہیںکہ اس دوسرے زمانہ میں بھی ویسا ہی کام ہوا ہے۔جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا تھا۔جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف سوسائٹی بنی تھی اسی طرح ایک اور بادشاہ کے مقابلہ میں بھی اس قسم کی سوسائٹی بنی۔مگر فرماتا ہے کہ یہ مشابہت صرف ظاہری ہے ورنہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف کھڑے ہونے والے کافر تھے اور دوسرے وقت بابل کا بادشاہ کافر تھا اور جو مقابلہ کرر ہے تھے وہ مومن تھے۔پہلے زمانہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کےلئے یہ قوم کھڑی ہوئی تھی اور دوسرے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک کافر بادشاہ کو نقصان پہنچانے کےلئے یہ قوم کھڑی ہوئی تھی۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی ہمیشہ یہ تعلیم رہی ہے کہ حکومت وقت کے خلاف کھڑا ہونا درست نہیں مگر یہاں تو بغاوت قابل تعریف فعل نظر آ تا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر اپنی حکومت کے خلاف کھڑا ہونا بھی درست ہے۔یہ اعتراض بظاہر وزنی معلوم ہوتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری تعلیم استثناء رکھتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اسلام کی تعلیم میں ہی یہ بات شامل ہے کہ اگر کوئی قوم کسی حکومت کو چھوڑ کرجاناچاہے اور وہ حکومت اُسے جانے نہ دے تو پھر وہ قوم اُس کی مخالفت کر سکتی ہے اور اُسے اجازت ہے کہ وہ چاہے مخفی بغاوت کرے یا کھلم کھلا۔وہ اس کا ہر رنگ میـں مقابلہ کر سکتی ہے۔اسلام بتاتا ہے کہ جب تم بادشاہ پر خوش نہ ہو اور نا خوشی معمولی ہو تو اُس وقت تک تم انتظار کرو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل تم پر نازل کرے۔اور اگر وہ نا خوشی غیر معمولی ہو اور تم انتظار نہ کر سکو۔توپھر اس حکومت سے نکل جاؤ۔اور اس ملک کو چھوڑ دو۔لیکن اگر وہ حکومت تمہیں زبردستی روکے اور وہاں سے جانے نہ دے اور ظلم بھی دُو ر نہ کرے تو اس صورت میں تم اس کا مقابلہ وہاں رہ کر کر سکتے ہو۔یہودی لوگ بابل میں قید تھے اور ان کو واپس اپنے وطن جانے کی اجازت نہ تھی۔وہ اپنے وطن سے باہر ایک غیر علاقہ میں تھے۔اس علاقہ کو چھوڑنے کی انہیں اجازت نہ تھی اور یہ ایک رنگ میں اُن کے مذہب میں دخل اندازی تھی۔اس صورت میں ظاہری یا مخفی طور پر بغاوت یا مقابلہ کرنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہوتی ہے۔گویا