تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 340
اگر تاریخی شہادت اِسے درست قرار نہ دے تو ماننا پڑے گا کہ کوئی اور رپورٹیں اُسے پہنچائی گئی تھیں جن کی وجہ سے اُسے طیش آیا تھا۔بعض مسلمان مؤرخین نے بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی خط کو اس واقعہ کا محرّک بتایا ہے مگر یہ غلط ہے۔وہ خط اس امر کا محرک نہیں ہوا بلکہ کسریٰ کے افسر آپ ؐ کے خط سے پہلے ہی آپ ؐ کی گرفتاری کے لئے آپؐ کے پاس پہنچ چکے تھے۔چنانچہ زرقانی جلد ۲ صفحہ۲۱۱،۲۱۲پر لکھا ہے کہ لِاَنَّ بَعْثَہٗ لِلْمُلُوْکِ اِنَّمَا کَانَ بَعْدَ الْعَوْدِ مِنْھَافِیْ غُرَّۃِ الْمُحَرَّمِ سَنَۃَ سَبْعٍ کَمَا یَأْ تِیْ (شرح العلامۃ الزرقانی امر الحدیبیۃ و فی ھذہ السنۃ کسفت الشمس المجلد ۳ صفحہ ۲۳۲) یعنی یکم محرم ۷ھ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تھے جو اس تاریخ کے لحاظ سے جو ہسٹورینز ہسٹری آف دی ورلڈ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہجرت کی مقرر کی ہے (جلد ۸ صفحہ ۱۱۸) اس کی تاریخ ۱۲؍اپریل ۶۲۸ءبنتی ہے۔اور خسرو ثانی جس نے آپ ؐ کی گرفتاری کا حکم بھیجا تھا وہ ۲۵ ؍فروری ۶۲۸ء کو پکڑا گیا اور ۲۹ ؍فروری ۶۲۸ء کو قتل کیا گیا تھا۔(ہسٹو رینز ہسڑی آف دی ورلڈ جلد ۸ صفحہ ۹۵ ) گویا خط اُس کے مارے جانے کے ایک ماہ بارہ دن بعد بھیجا گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خط اس بات کا محرک ہوا تھا کہ خسرو ثانی آپ ؐ کی گرفتاری کا حکم بھیجے۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قاصد اس کے قتل کے بعد مدینہ سے مدائن کی طرف جوان دنوں ایران کا پایۂ تخت تھا روانہ ہوا تھا۔اگر آپ ؐ کے خط کو اس کا محرک سمجھا جائے تو وہ خط کم از کم تین چار ماہ قبل کا ہونا چاہیے یعنی اس صورت میں آپ کا خط دسمبر ۶۲۷ء کا ہونا چاہیے۔حالانکہ آپ ؐ کا خط یکم محرم ۷ھ کو گیاہے جس کی تاریخ حساب کی روـ سے ۴؍مارچ ۶۲۸ء بنتی ہے۔پس جو خط آپ ؐ نے ۴؍مارچ ۶۲۸ء کو لکھا وہ اس حکم کا باعث نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا باعث وہی جھوٹی اور غلط رپوٹیں تھیں جو اُسے یہودکی طرف سے پہنچتی تھیں اور جن سے مشتعل ہو کر اس نے یہ ظالمانہ حکم دے دیا اور چونکہ وہ ۲۵ ؍فروری کو پکڑا گیا تھا اور ۲۹؍فروری کو قتل کر دیا گیا اس لئے یہ خط بہر حال اس کی طرف نہیں ہو سکتا بلکہ دوسرے کسریٰ کی طرف تھا جو اس کے قتل کے بعد تخت نشین ہوا۔یعنی اس خط کا مخاطب کسریٰ نہیں تھا بلکہ اس کا بیٹا شیرویہ تھا جس نے اپنے باپ کو قتل کیا تھا۔جن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی خط کو اِس اشتعال کی وجہ قرار دیا ہے آخر اُن کو بھی تسلیم کر نا پڑا ہے کہ یہ باہر کی تحریک تھی جس سے متأثر ہو کر اُس نے یہ قدم اُٹھایا۔یہ تحریک گورنروں کی طرف سے نہیں ہو سکتی کیونکہ عرب کا علاقہ اس کے ساتھ نہ تھا۔یہ صرف یہودیوں کی کارروائی تھی۔انہوں نے چاہا کہ جس طرح فارس والوں کے ساتھ مل کر ہم نے بابل کو تباہ کیا تھا۔اسی طرح دوبارہ ایک بادشاہ