تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 339
کمزور حصہ سمجھتے ہو اس کے مقابلہ میں دس سورتیں بنا کر پیش کردو تا تمہارے دعویٰ کی آزمائش ہو جائے۔مطالبہ میں دس کا عدد اختیار کرنے کی وجہ دس کا عدد اس واسطے استعمال کیا کہ یہ عدد کامل ہے اور چونکہ معترض کے دعویٰ کو رد کرنا تھا اس وجہ سے اس کو دس سورتیں بنانے کو کہا کہ تم کو ایک مثال نہیں دس مثالیں بنانے کی اجازت دیتے ہیں پس یہاں دس کا لفظ اس لئے نہیں رکھا گیا کہ وہ ایک سورۃ تیار کر سکتے تھے بلکہ اس لئے کہ ان کے اس اعتراض کو دُور کرنے کا بہترین ذریعہ یہی تھا کہ انہیں کئی مواقع اعتراض کے دیئے جاتے۔اور سب اس لئے نہیں کہا کہ اس وقت جن معترضوں کا ذکر تھا وہ صرف بعض حصوں کو قابل اعتراض قرار دیتے تھے سب کو نہیں۔غرض سورۃ بنی اسرائیل میں چونکہ تکمیل کا دعویٰ تھا اس میں قرآنِ شریف کی مثل کا مطالبہ کیا گیا۔اور سورۃ ہود میں چونکہ کفار کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ بعض حصے غیرمعقول ہیں اس لئے فرمایا کہ دس ایسے حصے جو تمہارے نزدیک سب سے کمزور اور قابلِ اعتراض ہوں تم انہی کے مقابل میں کوئی کلام بنا کر پیش کردو تاکہ کفار یہ نہ کہیں کہ ہمیں صرف ایک اعتراض کا حق دیا تھا اور اس کا مقابلہ کرنے میں ہم سے غلطی ہو گئی۔تیسرا مقام جس میں قرآن کریم کی بے مثلی کا دعویٰ ہے سورۃ یونس ہے اس میں ایک سورۃ کا مطالبہ کیا ہے جو پہلے دونوں مطالبوں سے کم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مطالبہ اپنے ایک دعویٰ کے ثبوت کے لئے تھانہ کہ کفار کے اعتراض کی تردید میں۔اس جگہ اس آیت سے پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ سب تصرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اس کے ثبوت میں قرآن کریم کو پیش کر کے اس کے متعلق پانچ دعوے کئے تھے وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ(یونس:۳۸)یعنی اوّل اس میں ایسی تعلیم ہے جسے انسان بنا ہی نہیں سکتا۔دوم پہلی کتب کی اس میں تصدیق ہے۔سوم اس میں پہلی کتب کے نامکمل احکام کو مکمل کیا گیا ہے۔چہارم یہ کلام بالکل محفوظ اور انسانی دست بُرد سے پاک ہے۔پنجم اس کی تعلیم تمام قسم کے انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔اس کے بعد فرمایا کہ اگر یہ سچ نہیں تو پھر تم بھی ایک سورۃ ایسی بنا کر پیش کردو جس میں وہ پانچ باتیں جو بیان کی گئی ہیں ایسے مکمل طو رپر بیان ہوں جیسی کہ اس سورۃ یعنی سورۃ یونس میں بیان کی گئی ہیں لیکن اگر ایک سورۃ کے مقابلہ میں بھی تم کوئی کلام پیش نہ کر سکو تو پھر سمجھ لو کہ سارے کلام میں کس قدر کمالات مخفی ہوں گے اور ان کا بنانا انسانی طاقت سے کس قدر بالا ہو گا! غرضیکہ اس جگہ مِثْلِہٖ سے مراد ان پانچ کمالات کی مثل والا کلام ہے جو سورۃ یونس میں بیان کئے گئے ہیں۔سورہ طور میں بیان شدہ تحدّی کا مطلب اب رہی آخری آیت یعنی فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ