تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 338
بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ایران کے بادشاہ خسرو ثانی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی گرفتاری کا حکم بھیجا تھا اُس نے اپنے یمن کے گورنر کے نام آرڈر لکھا کہ ہمیں رپورٹ پہنچی ہے کہ عرب میں ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔اُسے پکڑ کر ہمارے پاس بھجوادو تاکہ اُسے سزا دی جائے۔گورنر یمن نے اپنے دو سفیر آپ کی طرف بھیجے جنہوں نے آکر اطلاع دی کہ ہمیں آپ کی گرفتاری کے لئے بھیجا گیا ہے۔اور ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آپ ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں اور انکار نہ کریں ورنہ ممکن ہے کہ ایران کے بادشاہ کو غصہ آئے اور وہ عرب پر حملہ کر دے۔آپؐ نے ان کو دوسرے دن ملنے کے لئے فرمایا۔جب وہ دوسرے دن آپؐ سے ملے تو آپؐ نے فرمایا۔کہ میرے خدا نے مجھے بتایا ہے کہ اُس نے آج رات تمہارے خدا وند کو قتل کر وا دیا ہے۔انہوں نے نادانی سے سمجھا کہ شاید یہ نہ جانے کے لئے بہانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا کہ ہم آپ کی خیر خواہی کے طور پر کہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں ورنہ بادشاہ کو غصہ آئے گا۔اور ممکن ہے کہ وہ سارے عرب کو ہی تباہ کر دے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے میرے خدا نے بتایا ہے کہ اُس نے آج رات تمہارے خداوند کو مارڈالا ہے۔اس لئے جو کچھ میں نے تمہیں کہاہے وہی اپنے گورنر کو جا کر پیغام دےدو۔انہوں نے واپس جا کر گورنر یمن کو یہی بات کہہ دی۔گورنر نے کہا ہم چند دن انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ بات کہاں تک درست ہے اگر یہ بات درست نکلی تو واقعی وہ سچا نبی ہے ورنہ عرب کی خیر نہیں۔کسریٰ سارے عرب کو تباہ کر دے گا۔چند دن کے بعد بندرگاہ پر ایک جہاز پہنچا اور اُس میں سے ایک سفیر اُتر کر گورنر یمن کے پاس آیا۔اور اُس نے گورنر کو ایک شاہی مکتوب دیا جو سر بمہر تھا۔مگر مہر کسی اور بادشاہ کی معلوم ہوتی تھی۔خط کو دیکھتے ہی اُس کا ماتھا ٹھنکا۔اور اُس نے کہا۔عرب کے نبی کی بات سچ معلوم ہوتی ہے۔پھر اُس نے خط کھولا تو وہ خسرو کے بیٹے شیرویہ کا خط تھا۔جسے انگیریز ی میں سائروس Siroesکہتے ہیں۔اس میں لکھا تھا کہ ہمارا باپ سخت ظالم تھا۔آخر اس کے ظلموں سے تنگ آکر ہم نے اُسے قتل کر دیا ہے اور اب میں اس کا جانشین ہوں۔تم ہمارے نام پر سب لوگوں سے اطاعت کا عہد لو اور یہ بھی یاد رکھو کہ میرے باپ نے جو حکم عرب کے ایک مدعی نبوت کے گرفتار کرنے کے لئے بھیجا تھا وہ بھی ظالمانہ حکم تھا۔اُسے بھی ہم منسوخ کرتے ہیں اور جب تک کوئی نیا حکم نہ آئے اس کے متعلق کوئی کارروائی نہ کرو۔(طبری جلد ۳ صفحہ ۱۵۸۳،۱۵۸۴ ایڈیشن اوّل) غرض اُسی رات جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الہاماً یہ خبر دی گئی تھی کہ کسریٰ کو خدا تعالیٰ نے ہلاک کر دیا ہے خسروکے بیٹے شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور بیٹے کا اپنے باپ کو مارنا خدا ہی کا مارنا ہے۔ورنہ یہ رشتہ ایسا ہے کہ کوئی اس کا م کے لئے ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا۔