تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 30
اور اٰل کے استعمال میں فرق کیا گیا ہے۔لفظ اٰل بڑے انسانوں کی طرف ہی مضاف ہو گا اور کسی نکرہ کی طرف یا کسی زمانے اور مکان کی طرف نہیں ہو گا( مثلاً یہ نہ کہیں گے کہ آلِ رَجُلیا آلِ زمانہ یا آلِ بَیْت ) لیکن اَھْل کا لفظ ہر ایک کی طرف مضاف ہو سکتا ہے۔نیز آل کا لفظ کسی معزز اور شریف ذات کی طرف ہی منسوب ہو گا بمقابل اَھل کے کہ وہ معززاور غیر معزز ہر دو کی طرف مضاف ہو جاتا ہے۔یعنی یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اَلُ السُّلْطَانِ یعنی بادشاہ کی قوم اور رعیت۔لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ آلُ الْخَیَّاطِ درزی کی آل۔ہاں اَھْلُ الْخَیَّاطِ کہہ سکیں گے۔مگر لفظ اَھْل ہرایک کے ساتھ استعمال ہو سکے گا یعنی اَھلُ السُّلْطَانِ بھی کہہ سکیں گے اور اَھْلُ الْخَیَّاطِ بھی۔( مفردات) پس آلِ فرعون کے معنے ہوئے فرعون کی قوم۔فِرْعَوْن لَقَبُ کُلِّ مَنْ مَلَکَ مِصْرَ یعنی لفظ فرعون مصر کے قدیمی بادشاہوں کا لقب ہوا کرتا تھا۔بعض کے نزدیک ہر سرکش اور متمرّد و مغرور پر فرعون کا لفظ بولا جاتا ہے۔اس کی جمع فَرَاعِنَۃٌ ہے۔(اقرب) لفظِفرعون فَرْعَنَ سے بنا ہے اور فَرْعَنَ کے معنے ہیں کَان ذَا دَ ھَاءٍ وَ نَکْرٍ کہ اس کے اندر ذہانت اور عقلمندی حد درجہ کی پائی جاتی ہے اور تَفَرْعَنَ فُـلَانٌ کے معنے ہیں طَغٰی وَ تَـجَبَّـرَ سرکش ہوا اور شان و شوکت کا اظہار کیا۔اور تَفَرْعَنَ النَّبَاتُ کے معنے ہیں طَالَ وَ قَوِیَ کہ کوئی پودا لمبا اور مضبوط ہو گیا ( اقرب) فرعون مگر مچھ کو بھی کہتے ہیں (اقرب) گویا مصر کے قدیمی بادشاہوں کا لقب ان کی حد درجہ ذہانت اور بڑھی ہوئی طاقت کی وجہ سے فرعون ہو گیا۔یَسُوْمُوْنَکُمْ سَامَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور سَامَ فُـلَا نَانِ الْاَمْرَ کے معنے ہیںکَلَّفَہٗ اِیَّاہُ کسی کو مشکل اور بامشقت کام کرنے کا حکم دیا۔وَاَکْثَرُ مَا یُسْتَعْمَلُ فِی الشَّرِّ وَالْعَذَابِ اور اس فعل کا اکثر استعمال دُکھ اور شر پہنچانے کے معنوں میں آتا ہے۔جب سَامَ الْبَائِعُ السَّلْعَۃَ کہا جائے تو اس کے معنے ہوں گے عَرَضَھَا وَ ذَکَرَ ثَمَنَھَا۔سامان کو خریدنے والے پر پیش کیا اور قیمت کا ذکر کیا۔جب سَامَہٗ خَسْفًاکہیں تو معنے ہوں گے اَوْلَاہُ اِیَّاہُ وَ اَرَادَہٗ عَلَیْہ ِ کہ اُسے ذِلّت پہنچائی یا اس پر ذلّت پڑنے کی خواہش کی۔( اقرب) مفردات راغب میں ہے کہ اَلسَّوْمُ کے اصل معنے ہیںاَلذِّھَابُ فِی ابْتِغَاءِ الشَّيْ ءِ کہ کسی چیز کی تلاش میں جانا فَھُوَلَفْظٌ لِمَعْنًی مُرَکَّبٍ مِنَ الذِّ ھَابِ وَالْاِ بْتِغَاءِ گویا لفظ سَوْم درحقیقت مرکب معنے رکھتا ہے یعنی کسی جگہ جانا اور کسی چیز کو تلاش کرنا لیکن بعض اوقات صرف جانے کے معنے میںاستعمال ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں سَامَتِ الْاِبِلُ کہ اونٹ چرنے کے لئے گئے اور کبھی صرف اِبْتِغَاء یعنی چاہنے کے معنے میں۔جیسے یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ