تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 331
پر ہلاک کرنا چاہا اور اسے اُبلتے ہوئے تیل کے تالاب میں گرا دیا۔لیکن اس کے دادا قابیل کی روح نے اس کو وہاں سے نکال کر بچا لیامگر ساتھ ہی اسے یہ بھی خبر دے دی کہ آخر دشمن غالب آ جائے گا۔اسی کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام نے حاسدوں کو کچھ دے دلا کر تین انجینئروں کو قتل کروا دیا جن میں یہ بھی شامل تھا۔اس کی نسبت یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے کچھ خفیہ علامات مقرر کی ہوئی تھیں۔جو اس نے خود وضع کی ہوئی تھیں۔اور جواس کے اور اس کے ساتھیوں کے درمیان بطور راز کے تھیں جن کے ذریعہ وہ فوراً اکٹھے ہو جاتے تھے۔(سِیکرٹ سوسائٹیز آف دی ورلڈ جلد۲ صفحہ ۱ تا۱۰ ) اس کتاب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایکسپٹڈ میسنز (Accepted Masons ) کے طریق سے پہلے تمام فری میسنز سوسائٹیوں میں وہی علامات جا ری تھیں جو حورام کے وقت جاری تھیں۔ان میں جو نئے لوگ داخل ہوتے اور ممبر بنتے تھے ان کو کچھ خفیہ باتیں عمل کرنے کے لئے بتائی جاتی تھیںاور حورام کا واقعہ بھی ان کو سنایا جاتا تھا۔(جلد دوم صفحہ۱۰)یہ بھی ذکر آتا ہے کہ جب کسی کو فری میسن بناتے تھے تو اسے حورام کا قصہ کچھ زبانی سنایا جاتا تھا اور کچھ ڈرامے کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں یہ ذکر ہے۔کہ حورام کا ذکر فری میسن کی علامات میںدُوہرایا جاتا تھا۔چنانچہ لوگوں نے یہ بھی کوشش کی کہ یہ پتہ لگ جائے کہ وہ علامات کیا ہیں۔مگر وہ علامتیں اُس کے گلے میں بندھی ہوئی تھیں۔جب اسے حضرت سلیمان ؑ نے قتل کیا تو انہیں اتار کر پھینک دیا۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض خفیہ انجمنیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت موجود تھیں اور وہ آپ کی دشمن تھیں اور آپ کے خلاف خفیہ سازشیں کیاکرتی تھیںاور کہا جاتا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُن کے لیڈر کو مروا دیا تھا۔اُس کے بعض متبع اُسے اِتنا مقدس انسان سمجھتے تھے کہ وہ کہتے تھے کہ وہ مرا نہیں بلکہ آسمان پر اُٹھا لیا گیا ہے۔پس یہ لوگ یہودی تھے۔اِن میں یہود کی علامات اور رسوم کا پایا جانا اور اُن کو حورام کی طرف منسوب کرنا اور حورام کااُن کے نزدیک آسمان پر اُٹھا یا جانا بتاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت یقیناً ایک خفیہ سوسائٹی تھی جس کا مقصد حضرت سلیمان علیہ السلام کو نقصان پہچانا تھا۔اِس کے بعد ہم بائیبل کو دیکھتے ہیں تو اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کچھ سوسائٹیاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف تھیں گو اُن میں حورام کا نام نہیں آتا مگر بائیبل سے یہ پتہ ضرور لگتا ہے کہ یہود کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے دشمنی تھی۔وہ انہیں کافر کہتے تھے اور اُن کی طرف وہی بات منسوب کرتے تھے جس کا قرآن کریم کی اس آیت میں ذکر آتا ہے۔