تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 29

وَ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَکی تشریح وَ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ یعنی اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے ان تین طریق کے سوا کوئی اور غیر طبعی طریق بھی انسان کو بچا نہیں سکتا۔اس کے عذاب سے بچنے کا ایک ہی طریق ہے کہ انسان صداقت کو سمجھنے اور اُسے قبول کرنے کے لئے پورا زور لگائے اور جہاں تک اس میں طاقت ہے اﷲ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائے۔اور اس کی آواز پر لبّیک کہتا رہے۔پس یہود و نصاریٰ کو چاہیے کہ خود ساختہ طریقوں پر انحصار نہ کریں اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جو نئی صداقت آئی ہے اُسے قبول کریں ورنہ کوئی اور حیلہ اُن کے کام نہ آئے گا۔پہلی آیت اور آیت زیر تفسیر کا تعلق پہلی آیت سے اس آیت کا یہ تعلق ہے کہ پہلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ تم کو خدا تعالیٰ نے اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔اس میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس فضیلت کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم خدا تعالیٰ کے شکر گزار اور فرمانبردار بندے بنتے۔مگر تم اس کے برخلاف اس کی اطاعت کا جؤ ااُتار پھینکنے کے لئے قسم قسم کے بہانے تلاش کرنے لگ گئے ہو اور خدا تعالیٰ کے فضل کو پیش کر کے اس سے ناجائز فائدہ اٹھانا اور ناواقفوں کو دھوکا دینا چاہتے ہو۔وَ اِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ۠ سُوْٓءَ الْعَذَابِ اور( اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون کی قوم سے اس حالت میں نجات دی کہ وہ تمہیں بد ترین عذاب يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِيْ ذٰلِكُمْ دے رہی تھی تمہارے لڑکوں کو( ایک ایک کر کے) ذبح کرتی تھی اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتی تھی اور تمہارے رب بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ۰۰۵۰ کی طرف سے اس( بات) میں (تمہارے لئے) ایک بڑی آزمائش تھی۔حَلّ لُغَات۔اٰل۔اٰل کے معنے ہیں کنبہ۔قوم (اقرب) بعض کے نزدیک اٰل اَھْل سے َمقلوُب ہے(مفردات) اور اَھْلُ الرَّجُلِ کے معنے ہیں عَشِیْرَتُہٗ وَ ذَوُوْقُرْبَاہُ۔آدمی کا کنبہ اور اس کے اقربا ء۔وَاَھْلُ الرَّجُلِ : زَوْجَتُہٗ بعض اوقات اَھْلُ الرَّجُلِ بول کر یہ مراد ہوتا ہے کہ فلاں شخص کی بیوی۔اور جب کسی نبی کے لئے یہ لفظ بولیں اور کہیں اَھْلُ نَبِيٍّ تو اس کے معنے ہوں گے اُمَّتُہٗ نبی کی اُمت۔اور اہلِ بیت کے معنے ہیں گھر میں رہنے والے۔اور اَھْلُ الْاَمْرِ ان لوگوں کو کہیں گے جو کسی اہم امور پر متعین ہوں۔یعنی حُکّام (اقرب) لیکن اَھْل