تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 323
فرشتے نہیں بستے تو فرشتے رسول بن کرکیوں آئیں پس یہ قطعی طور پر محال ہے کہ بجائے انسان کے فرشتے لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا کریں۔تاریخ پڑھ کر دیکھ لو ہمیشہ رَجُل ہی نبی بن کر آیا ہے۔نہ کبھی عورت نبی بنی ہے اور نہ ہی کبھی کوئی غیر انسان نبی ہو کر آیا ہے۔پس یا تو اس کے یہ معنے کرنے پڑیںگے کہ ھَارُوْت ومَارُوْت دونوں ملکوتی صفات انسان تھے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ اِنْ ھٰذَ ا اِلَّا مَلَکٌ کَرِیْمٌ۔اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ اگر وہ واقعی فرشتے تھے تو وہ دو نبیوں پر اُترے تھے نہ کہ عام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم کی آیت لَوْكَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ (بنی اسرائیل :۹۶) سے ظاہر ہے فرشتے مُطْمَئِنِّیْن کی طرف آیاکرتے ہیں یعنی ان لوگوں کی طرف جو نیک اور پاک اور خدا رسیدہ ہوں۔بدیوں سے کلّی طور پر اجتناب کرنے والے ہوں۔ہر قسم کے رذائل سے محفوظ ہوں اور الہٰی انعامات اور برکات کے مورد ہوں۔مُطْمَئِنِّیْن کی یہ وہ تعریف ہے جو قرآن کریم نے اس آیت میں بیان کی ہے يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔(الفجر:۲۸تا۳۱)پس مُطْمَئِنِّیْن سے مراد وہ لوگ ہیں جو نفس مُطمئِنّہ رکھنے والے ہوں۔یہ مراد نہیں کہ اطمینان سے زمین میں کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے ہوں اورلڑائیوں سے اجتناب کرتے ہوں۔اور درحقیقت ایسے ہی لوگوں پر ملائکہ کلامِ الٰہی لے کر نازل ہوتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کفار پر ملائکہ نازل ہوئے ہوں اور اُنہیں اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچائے گئے ہوں۔ھَارُوْت۔ھَرَتٌسے نکلا ہے اور ھَرَتٌ کے معنے ہیں پھاڑنا۔(تاج ) پس ھَارُوْت کے معنے ہیں بہت پھاڑنے والا۔(المنجد) مَارُوْت۔مَرَتٌ سے نکلا ہے جس کے معنے توڑنے کے ہیں۔پس مَارُوْت کے معنے ہیںبہت توڑنے والا۔(تاج ) فِتْنَۃٌ۔وہ آزمائش جس کے ذریعہ سے کسی انسان کی خوبی یا برائی معلوم کی جائے۔اور بھلے بُرے کو پرکھا جائے اور خیر و شر کا پتہ لگایا جائے۔جیسے امتحان کے ذریعہ انسان کی خوبی یا نقص کو ظاہر کر دیا جاتا ہے۔(المنجد) تفسیر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام مئی ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے تھے۔غالباً آپ کی وفات کے ایک ماہ بعد کی بات ہے کہ مجھے الہام ہوا۔اِعْـمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا۔اے دائود کی نسل شکر گذاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال بجا لائو۔اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے لفظ سلیمان تو استعمال نہیں فرمایا مگر آلِ دائود کہہ کر