تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 316
کوئی نشان دکھایا جائے۔مگر جب اُن سے کوئی نشان طلب کیا گیا تو انہوں نے بقول انجیل یہ کہا کہ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگوں کو کوئی نشان نہیں دکھایا جائے گا۔گویا انہوں نے دشمن کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کر لیا۔اور کہا کہ اُن کو سوائے یونس نبی کے معجزہ کے اور کوئی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے انہوں نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا تھا اور آئندہ کے لئے بھی صرف ایک نشان کا انہوں نے وعدہ کیا مگر یہ وعدہ بھی غلط ہو گیا۔کیونکہ عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر مر گئے تھے۔اور مر کر ہی وہ قبر میں گئے تھے۔حالانکہ یونس علیہ السلام سمندر میں گرے تو زندہ رہے۔پھر مچھلی نے اُن کو نگلا تب بھی وہ زندہ ہی رہے۔اور پھر اس کے پیٹ میں سے بھی زندہ ہی نکلے۔مگر مسیح علیہ السلام تو اُن کے نزدیک صلیب پر ہی مر گئے تھے۔گویا ایک ہی معجزہ جس کے دکھانے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔اُس کے متعلق مسیحیوں نے کہہ دیا کہ وہ نہیں دکھایا گیا۔اور اس طرح انہوں نے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے کوئی نشان نہیں دکھایا۔مگر اس کے مقابلہ میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم کو بڑی کثرت کے ساتھ معجزات دیئے گئے تھے۔عیسائی یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف جو معجزات منسوب کئے جاتے ہیں انہیں ہم معجزہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے مگر یہ کہنا کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزات کامنکر ہے حدّ درجہ کا ظلم ہے۔قرآن کریم نہایت واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بڑے بڑے معجزات دیئے گئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ یعنی ہم نے یقیناً تجھ پر کھلے کھلے نشانات نازل کئے ہیں۔اس جگہ آیات بیّنات سے وہ تمام نشانات مراد ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمائے اور جن کی نظیر نہ موسیٰ ؑ کے نشانوں میں مل سکتی ہے اور نہ عیسیٰ ؑ کے نشانوں میں۔مگر فرمایا۔وَ مَا يَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ باوجود اِس کے کہ نشاناتِ الہٰیہ کی بارش برس رہی ہے پھر بھی اطاعت سے نکل جانے والے لوگ انکار پر کمر بستہ ہیں۔مگر اُن کا انکار اُنہیں کیا فائدہ دے سکتا ہے۔جس طرح پہلے نبیوں کے منکر تباہ ہوئے اُسی طرح یہ بھی تباہ ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ اس سکیم کو پورا کر کے رہے گاجس کے لئے وہ متواتر اپنے نبیوں سے ہر زمانہ میں پیشگوئیاں کرواتا چلا آیا ہے۔