تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 28
اجازت کے بغیر شفاعت کرے۔اسی طرح فرماتا ہے وَ لَا يَمْلِكُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ (الزخرف :۸۷) یعنی جن کو یہ لوگ اﷲ کے سوا پکارتے ہیں انہیں شفاعت کا کوئی اختیار نہیں ہاں شفاعت کا حق ہمارے اس بندے کو حاصل ہے جو حق کی گواہی دے رہا ہے اور یہ اس حق کی گواہی دینے والے کو جانتے ہیں۔پس قرآن کریم شفاعت کا قائل ہے وہ صرف اس غیر معقول شفاعت کا منکر ہے جو لوگوں کو گناہوں پر دلیر کرتی ہے اور سچائیوں پر غور کرنے سے باز رکھتی ہے۔آیت زیر تفسیر کے الفاظ بھی اس بارہ میں ہماری ہدایت کے لئے کافی ہیں۔اس جگہ یہ نہیں فرمایا کہ کوئی شفاعت نہ ہو گی بلکہ یہ فرمایا ہے کہ کسی شخص کی طرف سے شفاعت قبول نہ کی جائے گی گویا مجرم کی طرف سے شفاعت کے پیش ہونے کو رد کیا گیا ہے۔مجرّد شفاعت کو ردّ نہیں کیا گیا۔وَ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ میں یہود کی ایک اور غلطی کا ردّ وَلَا یُؤْخَذُ مِنْھَا عَدْلٌ اس جملہ میں یہود و نصاریٰ کی تیسری غلطی کا جوان کو گناہوں پر دلیر کرتی ہے ردّ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ گنہ گار اپنے گناہوں کا بدلہ دے کر گناہوں سے بچ سکتا ہے۔یہود اور نصاریٰ دونوں میں گناہوں کا بدلہ دینے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔رومن کیتھولک مسیحیوں میں یہود سے بھی زیادہ یہ عقیدہ ہے۔جب ان میں سے کسی سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ پادری کے پاس جاتا ہے اور وہ کچھ سزا اس کے لئے مقرر کر دیتا ہے جب وہ اس سزا کو بھُگت لے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس کا گناہ معاف ہو گیا۔یہود بھی قربانیوں وغیرہ کے ذریعہ سے گناہوں کا بدلہ دینے کے عادی تھے اور ہیں۔اسلام گناہوں کا اس قسم کا بدلہ تسلیم نہیں کرتا وہ تو گناہ کی معافی گناہ سے نفرت اور آئندہ کے اجتناب سے متعلق قرار دیتا ہے۔اور حق یہی ہے کہ اس کے سوا گناہ کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔کسی کو قتل کر کے کوئی شخص صدقہ دےدے تو اس سے اس کا یہ گناہ کس طرح معاف ہو جائے گا۔یا گرجا میں بیٹھ کر کچھ روزے رکھ لے تو یہ مقصد کس طرح حاصل ہو سکے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے بھی بعض غلطیوں کے لئے دوسرے اعمال کو بطور کفارہ قرار دیا ہے لیکن یہ وہ غلطیاں ہیں جو عبادت کی ظاہری شکل کے بارہ میں ہیں۔بندوں کی حق تلفی یا خدا تعالیٰ کی حق تلفی کے بارہ میں ایسی کوئی تعلیم اسلام کی نہیں۔مثلاً کسی شخص سے حج کا کوئی رُکن رہ گیا تو اس کے بدلہ میں کسی اور نیکی کا حکم دیدیا گیا ہے یا نادانستہ قتل ہو گیا ہے تو اُسے ایک اور عمل بتا دیا گیا ہے یہ اس لئے نہیں کہ اس دوسرے عمل نے گناہ کو دور کر دیا ہے بلکہ اس لئے ہے کہ ظاہری شکل کی غرض کسی اور طرح پوری ہو جائے یا انسان ہوشیار ہو جائے اور آئندہ بے احتیاطی سے بھی کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔