تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 303

وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ میں ھُوَ کی ضمیراَحَدُھُمْ کی طرف جاتی ہے اور ترجمہ کے لحاظ سے یہ عبارت یُوں بنتی ہے کہ مَا اَحَدُھُمْ بِمُزَحْزِحِہٖ تَعْمِیْرُہٗ مِنَ الْعَذَابِ کہ اُن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جسے زیادہ عمر کا دیا جانا عذاب سے بچا سکے۔فرماتا ہے لمبی عمر کی خواہش کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔کیونکہ آرام کی لمبی گھڑیا ں دُکھ کی ایک چھوٹی سی گھڑی کے مقابلہ میں بھی ہیچ ہو جاتی ہیں۔اور راحت کی گھڑیوں پر غالب آجاتی ہے۔پس لمبی عمر انہیں عذاب سے بچا کر کہاں لے جائے گی۔اور ان کو اس سے کیا فائدہ ہو گا۔یہ تو حماقت کی بات ہے۔مگروہ اس میں اسی طرح مبتلا ہیں جس طرح وہ اپنی اس پہلی حماقت میں مبتلا تھے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی اور کو انعام نبوت حاصل نہیں ہو سکتا۔اب بھی یہ احمق لوگ یہ خواہش تو نہیں کرتے کہ عذاب کو اُن سے ٹلا دیا جائے بلکہ یہ خواہش کرتے ہیں کہ عذاب کچھ دیر پیچھے ہو جائے۔حالانکہ اس سے انہیں کیا فائدہ ؟ اصل علاج تو یہ تھا کہ وہ اسلام کو قبول کر لیتے جس نے اُن کے لئےنجات کا دروازہ کھولا ہوا ہے۔مگر بجائے اِس کے کہ وہ اسلام قبول کرکے اس عذاب کو ٹلا دیں یہ اس کو شش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ پیچھے ہو جائے۔حالانکہ کوشش یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ اس سے بچ جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت کو کھینچ لیں۔اِس رکوع کی آیت نمبر ۸۸ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو بتایا تھا کہ دیکھو تم حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام انبیاء کی مخالفت کرتے آئے ہو اور گو اُن کی مخالفت تمہارے آباء نے کی مگر تم بھی اُس میں اس لئے شریک ہو کہ تمہاری اور اُن کی مخالفت کی وجہ ایک ہی ہے۔یعنی اپنے منشاء کے خلاف نبی ءِ وقت کی تعلیم کاہونا۔پس اگر ان کے وقت میں تم ہوتے تو اُس وقت بھی تم وہی کچھ کرتے جو اَب کررہے ہو۔آیت ۸۹ میں یہود کا ایک قول نقل فرمایا کہ نبیوں کے جواب میں ایسے اقوال سے تم ان کی ہنسی اُڑایا کرتے یا اپنے تکبر کا اظہار کیا کرتے تھے۔آیت ۹۰ میں بتایا کہ غضبِ الٰہی اور تمہاری آبائی عادت کا یہ نتیجہ ہے کہ جب وہ موعود رسول آیا جس کا تم انتظار کر رہے تھے تو تم انکار کر بیٹھے۔آیت ۹۱ میں اس کے انکار کی وجہ بتائی جو صرف یہ ہے کہ غیر قوم سے کیوں رسول آیا ؟ آیت ۹۲ میں ان کے تمردانہ انکار کا نقشہ کھینچا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ پیش کیا جاتا ہے تو بغیر سوچے سمجھے اور دلائل پر غور کرنے کے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو وہی مانیں گے جو بنی اسرائیل کے انبیاء پر نازل ہوا۔حالانکہ یہ نبی بھی اُنہی انبیاءبنی اسرائیل کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہے۔پھر اُن کے اس مقابلہ کو یاد دلا کر جو وہ انبیائے بنی اسرائیل کا وقتاً فو قتاً کرتے رہے ہیں ان کو نادم کیا گیا ہے۔کہ تم نے اُن کے وقت میں اُن کو بھی نہیں مانا