تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 302
بھی زیادہ حریص ہیں۔گویا اَحْرَص ہونا یہود کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا ہے۔یوں مشرک بھی بڑے حریص ہوتے ہیں کیونکہ وہ قیامت کے منکر ہوتے ہیں۔اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ جس قدر ہو سکے دنیا میں زندہ رہیں۔مگر فرماتا ہے۔یہ لوگ اِن سے بھی زیادہ حریص ہیں۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ ان لوگوں میں سے بھی جنہوں نے شرک کیا ہے بعض کو تو دنیا کی زندگی کا زیادہ حریص پائے گا۔گویا ان کی حرص پر زیادہ زور دینے کے لئے مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا کو اَلنَّاسسے علیحدہ کرلیا۔جیسے کہتے ہیں جَآءَ قَوْمٌ وَزَیْدٌ وَ عَمْرٌو۔قوم کے لوگ آئے اور زید اور عمرو بھی آگئے۔حالانکہ زید اور عمرو بھی قوم میں شامل ہیں مگر ان کا نمایاں کرنے کے لئے الگ نام لے لیا گیا۔مشرک دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو قیامت کے منکر ہوتے ہیں اور اس جہان میں آرام سے رہتے ہیں۔وہ طبعًا دنیوی زندگی کے بہت زیادہ حریص ہوتے ہیں۔دوسری قسم کے مشرک وہ ہوتے ہیں جو قیامت کے تو منکر ہوتے ہیں مگر اس جہان میں انہیں آرام نہیں ہوتا۔اس قسم کے مشرک زندگی کے ختم ہونے کے متمنّی ہوتے ہیں تاکہ انہیں ان تکالیف سے نجات مل جائے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس زندگی کا ختم ہو جانا ہی سُکھ کا موجب ہے۔اس لئے فرمایا کہ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔اِن مشرکوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے جو ہزار سالہ زندگی چاہتی ہے ورنہ سارے مشرک ایسے نہیں۔اِس آیت سے نصِّ صَریح کے طور پر تو نہیں صرف ایک استنباط کے رنگ میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قرآنی نظریہ کے مطابق انسان کی ہزار سالہ زندگی ایک بعید از قیاس امر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب کتاب’’ چشمۂ معرفت‘‘ لکھ رہے تھے تو آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ بعض دفعہ اُس کے مضامین دوسروں کو بھی سُنادیا کرتے تھے ایک دفعہ آپ نے حضرت نوح ؑ کی۹۵۰ سالہ عمر پر آریوں کے اعتراض کے بارہ میں فرمایا کہ ہم نے اس کے جواب میں یہ لکھا ہے کہ نبی کی عمر سے مراد اُس کی اپنی عمر نہیں ہوتی بلکہ اُس کی جماعت کی عمر ہوتی ہے۔آپ یہ سُناہی رہے تھے کہ حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب تشریف لے آئے۔وہ کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے مگر لوگ نیچریّت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔ہوتے ہیں تو ہوں پھر کیا ہوا ہمیں تو جہاں بھی اسلام کی صداقت نظر آئے گی ہم اُسے پیش کریںگے خواہ کوئی اُس سے نیچریت کی طرف ہی کیوں نہ مائل ہو جائے۔بہرحال قرآن مجید میں جہاں کسی نبی کی زیادہ عمر کا ذکر آتا ہے۔وہاں ایک فرد کی عمر مُراد نہیں بلکہ اُس کی اُمت کی عمر مراد ہے۔