تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 301

جائے گی۔دوسرے معنے تَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے یہ تھے کہ تم خدا کی رضاء کے لئے اپنے آپ کو فنا کرو اور اپنے اوپر وہ موت وارد کرو جو ابدی زندگی کا پہلا قدم ہے۔اِس مفہوم کے لحاظ سے آیت کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ کبھی بھی اِس موت کو جس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے حیات ابدی عطا کرتا ہے قبول نہیں کریں گے کیونکہ گناہوں کی وجہ سے اُن کی روحانیت مسخ ہو چکی ہے اور اب وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ اُن کے دلوں میں یہ خیال بھی نہیں آ سکتا کہ وہ خدا کے لئے اپنے آپ پر موت وارد کریں۔گویااُن کی گردنوں میں جو گناہوں کے طوق و اغلال پڑے ہوئے ہیں اُن کی وجہ سے انہیں یہ توفیق ہی نہیں ملے گی کہ وہ یہ نمونہ دکھا سکیں۔وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ میں بتایا کہ جُھوٹے کی یہ علامت ہے کہ وہ آنوں بہانوں سے مباہلہ کو ٹلاتا چلا جاتا ہے کبھی مقابلہ پر نہیں آتا۔مگر کیا وہ اس طرح بچ جائیں گے؟ آخر ایک دن پکڑے جائیں گے۔اور ان کا انجام لوگوں پر ظاہر کردے گا کہ کون ظالم تھا اور کون راستباز چنانچہ یہود پر جو تباہیاں آئیں۔اُس نے اُن کے انجام کو ظاہر کر دیا۔وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَيٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اور تو یقیناً انہیں (بھی) اور بعض ان لوگوں کو (بھی ) جو مشرک ہیں سب لوگوں سے زیادہ زندگی کا حریص پائے گا ان اَشْرَكُوْا١ۛۚ يَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ میں سے (ہر )ایک (یہی)چاہتا ہے کہ اسے ہزار سال کی عمر مل جائے حالانکہ یہ (امر ) یعنی اس کا (لمبی) عمر پانا اس بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَؒ۰۰۹۷ کو عذاب سے نہیں بچا سکتا۔اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔حَلّ لُغَات۔یَوَدُّکے معنے پسند کرنے کے ہیں۔مگر جب لَوْ اس کے بعد آئے تو اس کے معنے تمنا کرنے کے ہوتے ہیں۔(المنجد) تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ لوگ سب سے زیادہ اس بات کے حریص ہیں کہ زندہ رہیں۔حتّٰی کہ مشرکوں سے