تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 300
اگر کوئی شخص سوال کرے کہ اگر اسلام قبول کئے بغیر بھی انسان کو نجات مل سکتی ہے۔تو پھر وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ (آل عمران: ۸۶)کا کیا مطلب ہے ؟ تو اِسے یاد رکھنا چاہیے کہ اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ نجات جو استحقاق کے طور پر ملتی ہے۔وہ مسلمانوں کے سوا اور کسی کو نہیں مل سکتی۔مگر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے۔یہ حق بھی وہ ہے جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہوا ہے۔ورنہ بندہ کا اللہ تعالیٰ پر کوئی ذاتی حق نہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ نے خود بندے کا اپنے اوپر ایک حق قائم کر لیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے مقرر کرنے کی وجہ سے بطور استحقاق نجات صرف مسلمانوں سے مخصوص ہے۔اِن میں سے جو شخص بھی قرآن کریم پرعمل کرے گا نجات حاصل کرلے گا۔لیکن دوسرے لوگ بطور رحم کے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی بچہ بہرہ یا پاگل اور معذور ہو تو اُسے دوبارہ موقع دیا جائے گا۔اور یا پھر اس کے فطرتی ایمان کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گااور یہ دیکھا جائےگا کہ آیا اس نے اس ایمان کے مطابق عمل کیا تھا یا نہیں ورنہ اگر خد ا تعالیٰ کسی کو بخشنا چاہے تو ہم اُس کا ہاتھ نہیںپکڑ سکتے۔وہ مالک ہے جسے چاہے نجات دے۔وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص غیر اسلام کا ابتغاء کرتا ہے وہ عام قانون کے مطابق نجات نہیں پا سکتا۔کیونکہ وہ خود اپنے لئے نجات کا دروازہ بند کرتا ہے اور استحقاق سے اپنے آپ کو محروم کرتا ہے۔لیکن نجات کے اور بھی ذرائع ہیں۔اگر ان کے ماتحت کوئی شخص آجائے تو یقیناً نجات پا جائے گا۔وَ لَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ١ؕ اور (اے مسلمانو!یاد رکھوکہ) جو کچھ ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اس کے سبب سے وہ کبھی بھی اس (قسم کی موت) وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ۰۰۹۶ کی تمنّا نہیں کریں گے۔اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔تفسیر۔تَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے دو۲ معنوں کی رو سے اِس کے بھی دو معنے ہوں گے۔اگر موت سے مباہلہ مراد لیا جائے تو اِس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ ہر گز مباہلہ نہیںکریںگے۔اور ان کا یہ گریز اس امر کا ثبوت ہو گا کہ اُن کے دل جانتے ہیں کہ انہوں نے خدا کی مرضی کے مطابق کام نہیں کیا۔ورنہ وجہ کیا ہے کہ وہ پیچھے ہٹتے ہیں۔اُن کا پیچھے ہٹنا بتاتا ہے کہ انہیں اپنی بدیاں معلوم ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے مباہلہ کیا تو انہیں اپنے گناہوں کی سزا مل