تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 296

فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ تم مباہلہ کر لو۔یعنی مسلمانوں کا دُعا سے مقابلہ کر کے دیکھ لو۔اور کہو کہ الٰہی ہم میں سے جو جھوٹا ہے تو اُسے تباہ و برباد کر دے۔اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک تم سچے ہوئے تو خدا تعالیٰ تمہیں بچا لے گااور مسلمانوں کو تباہ کر دے گا اور اگر مسلمان سچے ہوئے۔تو اللہ تعالیٰ تمہیں تباہ کر دے گا اور مسلمانوں کو بچالے گا اور اس طرح دنیا کو پتہ لگ جائے گا۔کہ خدا تعالیٰ کس سے ناراض ہے اور کس سے خوش۔اِس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں صرف موت کا لفظ استعمال کیا ہے۔مَوْتَکُمْ نہیں فرمایا۔کیونکہ مباہلہ میں یہ شرط ہوتی ہے کہ دونوں فریق یہ دعا کریں کہ جھوٹے پر عذاب نازل ہو۔اِس میں کسی فریق کی تعیین نہیں کی جاتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت مباہلہ میں بھی یہ الفاظ رکھے ہیںکہفَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ (آل عمران: ۶۲)یعنی ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔پس فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے یہ معنے ہیں۔کہ اگر یہود حق پر ہیں۔اور اگلے جہان میں خدا تعالیٰ کے انعامات کے وہی وارث ہیں تو اس بات کو ثابت کرنے کیلئے وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں یہ دعا کریں کہ الٰہی ہم میں سے جو فریق جھوٹا ہے اور جس سے تو ناراض ہے اُسے ہلاک اور برباد کردے۔اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک واقع میں یہود پسندیدہ ہیں۔اور مسلمان قابل سرزنش ہیں۔تو مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور یہود کو سر فرازی حاصل ہوجائے گی۔اور اس طرح دنیا کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع مل جائے گا کہ آخرت کے متعلق کس قوم کا دعویٰ سچا ہے۔کیونکہ آخرت کے متعلق مختلف مذاہب کے دعوؤں کی صداقت پر کھنے کا سوائے اِس کے اور کو ئی ذریعہ نہیں کہ اِس دنیا میں ہی آسمانی تائیدات سچے مذہب کے اِدَّعَا کو ثابت کردیں۔اور دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ درست ہے کہ تم ہی نجات یافتہ ہو تو اِس دعویٰ کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمہارے متعلق یہ سمجھا جائے کہ تمہارا ہرفرد پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر قائم ہے۔اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے انوار اور اُس کی برکات کا تجلّی گاہ ہے۔ایسی صورت میں تم خدا تعالیٰ کی رضا میں اپنے آپ کو فنا کیوں نہیں کرتے اور اپنی سفلی زندگی پر ایک موت واردکیوں نہیں کرتے۔جو قوم اکیلی جنت کی مستحق ہو اُسے اس دنیا سے محبت کیوں ہو۔اُسے تو رضاءِ الٰہی کے کاموں میں اپنے آپ کو فنا کر دینا چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ نے بہترین جہان اس کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔پس فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَکے دوسرے معنے یہ ہیں کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے آپ کو فنا کر دو۔اور اس راہ میں جس قدر بھی تکالیف تمہیں برداشت کرنی پڑیں اُن کو برداشت کرو۔اور ہر قسم کی جانی اور مالی قربانیوں میں حصّہ لے کرثابت کر دو کہ تم نے ایک بے جان چیز کی طرح اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر رکھا ہے۔اگر تم ایسا کرو تو یہ سمجھ لیا جائے گا کہ تمہارا یہ دعویٰ درست ہے کہ تمہارے سوا اور کسی کے لئے