تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 290

رہے ہو۔یہ محض تمہارے نفس کا ایک دھوکا ہے کہ اگر کوئی اسرائیلی نبی ہوتاتو تم اُسے ضرور مان لیتے۔تمہارا عمل بتا رہا ہے کہ تم ہمیشہ انبیاء کا مقابلہ کرتے چلے آئے ہو۔چنانچہ یہود کی اِس دیرینہ عادت کا حضرت مسیحؑ نے بھی ان الفاظ میں نوحہ کیا ہے کہ ’’اے یروشلم اے یروشلم جو نبیوں کو مارڈالتی اور انہیں جو تجھ پاس بھیجے گئے پتھرائو کرتی ہے۔‘‘ (متی باب۲۳ آیت ۳۷) وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ اور موسیٰ تمہارے پاس یقیناً کھلے کھلے نشانات لے کر آیا تھا۔پھر (بھی) تم نے اس کے (پہاڑ پر جانے کے) بعدظلم مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۰۰۹۳ کرتے ہوئے (خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر) بچھڑے کو( معبود) بنا لیا تھا۔تفسیر۔فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَآءَ اللّٰهِ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس قول کا اجمالی جواب دیا تھا کہ اگر یہ نبی بنی اسرائیل میں سے ہوتا تو ہم اُسے مان لیتے۔اور فرمایا تھا کہ اگر تم اپنے اِس قول میں سچے ہوتے تو اِس سے قبل بھی تم میں انبیاء آتے رہے ہیں تم ان کا مقابلہ کیوں کرتے رہے پس تمہارا یہ کہنا کہ اگر یہ نبی بنی اسرائیل میں سے ہوتا تو ہم اِسے مان لیتے بالکل غلط ہے۔اب اسی بات کا اللہ تعالیٰ اس جگہ مزید تشریح کے ساتھ جواب دیتا ہے۔فرماتا ہے کہ تم حضرت موسیٰ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہو۔اور تم نے اُس کے ساتھ بینات اورکھلے کھلے دلائل بھی دیکھے۔مگر جب وہ طُور پر خدا سے برکات لینے گئے تو تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اُس کی پرستش شروع کر دی۔اب تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ اگر یہ بنی اسرائیل میں سے ہوتا تو ہم اسے مان لیتے۔تم نے اس نبی کے ساتھ جس پر تمہیں بڑا ناز ہے جب ایسا سلوک کیا تو اب تم سے یہ کیسے اُمید کی جا سکتی ہے کہ اگر یہ بنی اسرائیل میں سے ہوتا تو تم اسے ضرور مان لیتے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے بَیِّنٰت کا لفظ رکھا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔عیسائی لوگ بیّنات سے اُن کی ابنیت اور الوہیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ اگر اُن کا یہ استدلال درست ہو تو پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کو بھی خدا کہنا چاہیے۔مگر اُن کے متعلق وہ ایسا نہیں کہتے۔پس ان کا