تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 289

کے ذریعہ پورا ہوا۔فتح مکہ کے وقت آپ کے ساتھ دس ہزار قدوسی بھی تھے۔اور پھر موسیٰ ؑکے بعد شریعت لانے کا دعویٰ بھی آپ کے سوا اور کسی نبی نے نہیں کیا۔اِن دو۲ پیشگوئیوں کے علاوہ اَور بھی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہوتی ہیں۔دیکھو یسعیاہ باب۸ آیت ۱۴ تا ۱۷ وباب۹ آیت۱۳، ۱۷ وباب۲۸ آیت۹تا۱۳ وباب۳۵ آیت۳ تا۸ وباب ۴۰ آیت۹تا۱۲، وباب۴۲ و ۴۹ آیت ۵ تا۸ وباب۶۲ آیت۲ تا۴۔نیز دیکھو دانیال باب ۷ و غزل الغزلات باب۵ آیت ۱۰تا۱۶ ومتی باب۲۱ آیت ۴۲ تا ۴۴۔غرض فرمایا کہ ایک طرف تو یہ تعلیم حق پر مشتمل ہے اور دوسری طرف اس کے ماننے سے گزشتہ الہامی کتابوں کی پیشگوئیوں کی تصدیق ہو جاتی ہے۔اگر وہ اس کا انکار کریںگے تو ان کو اپنی کتابوں کی بھی بہت سی باتیں جھوٹی ماننی پڑیں گی۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اس تعلیم کی صداقت منوانے کے لئے تین دلائل دیئے ہیں۔اوّل یہ کہ یہ تعلیم خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔دوم دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی وہ ضرور دنیا میں قائم ہو کر رہے گی۔سو م یہ تعلیم تمہاری اپنی کتابوں کی پیشگوئیوں کو جو آنیوالے موعود اور قرآن کریم کے متعلق ہیں پورا کرتی ہے۔اگر تم اِس کا انکار کرتے ہو تو تمہیں اپنی کتابوں کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔اور تم ان پر قائم نہیں رہ سکو گے۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل یہود آپ کے منتظر تھے۔اور اپنے بچوں کے نام تک محمد رکھا کرتے تھے۔اور اس لئے رکھتے تھے کہ شاید وہ نبی ہم میں ہی پیدا ہو جائے۔(اُسد الغابۃ محمد بن احیحۃؓ) لیکن جب وہ آگیا تو اُس کا انکار کر دیا۔اور کہنے لگے کہ وہ بنی اسمٰعیل سے کس طرح آسکتا تھا۔اُس نے تو ہماری طاقت کو بڑھانا تھا۔عیسائی کہنے لگ گئے کہ اس سے مراد کلیسیا کی طاقت تھی۔اسی طرح اور مختلف قسم کی تاویلیں کرنے لگ گئے۔حالانکہ اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیتے تو یقیناً ان کی طاقت بڑھ جاتی اور وہ تباہی سے بچ جاتے۔فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اگر ہم میں سے نبی آتا تو ہم اسے ضرور مان لیتے تو تم یہ بتائو کہ تم اُن انبیاء کو جو تمہاری قوم میں سے آئے تھے قتل کرنے کے کیوں درپے رہے؟اگر تم میں ایسی ہی شرافت پائی جاتی ہے۔اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو بتائو کہ تم اُن پر کیوں ایمان نہ لائے اور ان کا مقابلہ کیوں کرتے رہے۔پس یہ غلط ہے کہ جو کلام اسرائیلی نبی پر نازل ہو اُسے تم مان لیتے ہو۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایمان کی خرابی کی وجہ سے انسان حق کا انکار کیا کرتا ہے۔اور تم بھی اسی وجہ سے اس کلام کا انکار کر