تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 281

ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ (الانعام : ۱۲۶) یعنی جسے اللہ تعالیٰ ہدایت کا راستہ دکھانا چاہتا ہے اور کامیاب کرنا چاہتا ہے اور جنت میں پہنچانا چاہتا ہے۔اُس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔اسلام کا لفظ بعض دفعہ ایمان کے لئے بھی استعمال ہوجاتا ہے۔اور بعض دفعہ ایمان اور اسلام دونوں الگ الگ مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔اس جگہ اسلام کا لفظ ایمان کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور بتایا گیا کہ جسے اللہ تعالیٰ جنت میں لے جانا چاہتا ہے۔اُس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے گویا سینے کا کھلنا بھی جنت کا ایک ٹکٹ ہے۔غرض ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کے ٹکٹ کا ذکر کیا ہے اور دوسری جگہ شرح صدر کو اُس کی علامت قرار دیا ہے۔دراصل یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔کیونکہ تعبّد کے معنے تذلّل اور خدا کے نقش کو قبول کرنے کے ہیں اور عبدکامل وہ ہو تا ہے جو خدا تعالیٰ کے نقش کو قبول کرنے لگ جائے اور یہی معنے شرح صدر کے ہوتے ہیں۔غرض یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ انسان کا مومن ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ سودا ہو جاتا ہے۔اور وہ اپنا مال اور اپنی جان خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُسے جنت دے دیتا ہے جنّت چونکہ مرنے کے بعد ملا کرتی ہے اس لئے اس دنیا میں اس کے لئےاُسے ٹکٹ دے دیا جاتا ہے کہ اسے دکھانا اور اندر چلے جانا ورنہ اُسے کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد اُسے جنت ملے گی یا نہیں۔اس لئے اس کی علامت مقرر کر دی جو عبودیت اور اسلام کے لئے شرح صدر ہے گویا ایمان و اسلام ایک ٹکٹ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو ملتا ہے اور اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کا سودا خدا تعالیٰ سے طے پا گیا ہے۔جب وہ اسے پیش کر دیتا ہے تو اُسے جنت مل جاتی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس سودا کو فسخ کرنا چاہے تو کیا کرے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے کہے گا کہ جنت کا ٹکٹ واپس کر دو۔اور اپنی چیز لے لو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم جب اُن پر ایمان لائی تو اُس کا خدا تعالیٰ سے سودا ہو گیا اور اُسے جنت کے لئےٹکٹ مل گیا۔اِسی طرح جب عیسائی قوم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مان لیا تو اس کا بھی خدا تعالیٰ سے سودا ہو گیاتھا۔اور اسے جنت کا ٹکٹ مل گیا۔یہ لوگ اپنے اپنے زمانہ میں مومن تھے اور ان کا خدا تعالیٰ سے سودا ہو گیا تھا۔اسی طرح مسلمانوں کا بھی خدا تعالیٰ سے سودا ہو گیا اور اُن کو بھی خدا تعالیٰ نے جنت کا ٹکٹ دے دیا۔مگر یہود نے یہ حماقت کی کہ انہوں نے اس بیع کو فسخ کر دیا۔اور جنت کا ٹکٹ جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا تھا واپس کر دیا اور اپنی جانوں اور مالوں کو لے لیا۔خدا کی دی ہوئی چیز ایمان اور اسلام واپس کر دی اور اپنی جانیں اور اموال لے لئے۔اللہ تعالیٰ