تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 280

فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ۰۰۹۱ ہے۔پس یہ لوگ غضب کے بعد غضب کا مورد ہوگئےاور ایسے (ہی) کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب (مقدّر) ہے۔حَلّ لُغَات۔اِشْتَرٰی۔یہ لفظ خریدنے کے معنوں میں بھی آتا ہے اور بیچنے کے معنوں میں بھی۔یہاں دونوں معنے چسپاں ہو جاتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ۔یہ ایک وسیع مضمون ہے جو لمبی تفصیل سے تعلق رکھتا ہے مگر میں اسے اختصار کے ساتھ بیان کر دیتا ہوں۔قرآن کریم سے یہ بات ثابت ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے تو اس وقت اللہ اور اس کے درمیان ایک سودا ہو جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں دوسری جگہ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة :۱۱۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے اُن کی جانیں اور اُن کے اموال اس وعدہ کے ساتھ خرید لئے ہیں کہ انہیں اس کے بدلہ میں جنت دی جائے گی۔اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ وہ مومنوں سے ان کے مال اور جان خرید لیتا ہے اور اس کی قیمت میں انہیں جنت دے دیتا ہے۔جنت مرنے کے بعد ملنے والی چیز ہے۔اور جو چیز بعد میں ملنے والی ہوتی ہے اس کے لئے سودا کرتے وقت کوئی نہ کوئی رسید دی جاتی ہے جسے وہ موقع پر دکھا سکے۔اس نکتہ نگا ہ سے جنت کے لئے بھی کوئی پروانہ ہونا چاہیے تھا جسے وہ موقع پر دکھا کر داخل ہو سکے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں۔قرآن مجید میں دوسری جگہ جنت کیلئے ایک پروانہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔فرماتا ہے۔یٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔(الفجر: ۲۸تا۳۱)یعنی اے نفس مطمئنہ تو اپنے رب کی طرف اس حالت میں رجو ع کر کہ تو اپنے رب سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو گویا یہ علامت ہو گی اس بات کی کہ سودا ٹھیک ہے۔چونکہ دینے والا اور لینے والا دونوں راضی ہوں گے اسلئے ثابت ہو جائے گا کہ سودا بالکل درست ہے۔غرض ایمان لانا ایک سودا ہے جو بندہ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جنت میں داخل کر لیتا ہے۔اور اس کےلئے پہلے اسے ایک پروانہ دے دیتا ہے اور وہ پروانہ یہ ہے کہفَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ تو میرے بندوں میں داخل ہو جا۔گویا عبودیت کا مقام وہ ٹکٹ ہے جسے دکھا کر ایک مومن بندہ جنت میں داخل ہو جائےگا۔