تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 279

نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا تھا کافر کہنے لگ گئے۔حالانکہ اس سے قبل آنے والے رسول کے متعلق وہ اپنی کتابوں سے خود پیشگوئیاں نکال نکال کر بیان کیا کرتے تھے۔اور اس بات پر فخر کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ وہ موعود نبی آئے گاتو پھر ہم تمہاری خوب خبرلیںگے لیکن جب وہ رسول آگیا تو وہ تاویلیں کرنے لگ گئے۔یہی حال آج کل کے مسلمانوں کا ہے۔وہ بھی کفار پر غلبہ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔مگر جب آنے والا آگیا تو وہ تاویلیں کرنے لگ گئے اور پھر یہ کہنے لگ گئے کہ یہ خیالات ہمارے اندر مجوسیوں سے آگئے ہیں۔ورنہ دراصل ہمارے ہاں کوئی ایسی پیشگوئی ہی نہ تھی۔فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ۔اس جگہ کافر سے مراد عام کافر بھی ہو سکتے ہیں۔مگر زیادہ تر وہی کافر مراد ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے تو یہ دُعائیں کیا کرتے تھے کہ الہٰی کوئی ایسا رسول مبعوث فرما جو دین حق کو ادیانِ باطلہ پر غالب کر دے لیکن جب وہ رسول آگیا۔اور ان لوگوں نے علامات سے یہ بات دیکھ لی کہ باطل پر صداقت غالب آرہی ہے اور عنقریب کلّی طور پر غالب آجائے گی تو اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔پس واضح صداقت کو دیکھ کر اور حجت قائم ہونے اور دُعائیں کرنے کے بعد اُن کے انکار کرنے کے یہ معنے ہیں کہ اُن پر خدا تعالیٰ کی لعنت پڑی ہوئی ہے۔ورنہ ایسی واضح صداقت کا وہ بلا وجہ کس طرح انکار کر سکتے تھے۔واقعہ میں جب ہم اس بات پر غور کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت کس طرح حضرت موسیٰ ؑ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی عزت عرب کے دلوں میں بیٹھ گئی اور وہ جو اُن انبیاء کو مفتریوں کی طرح سمجھتے تھے صادقوں کی طرح اُن کی عزت کرنے لگے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہود کو آخر وہ کونسی تکلیف پہنچی تھی جس کی وجہ سے ایسے محسن انسان کی دشمنی اور ایذاء دہی میں انہوں نے عرب کے کفار سے بھی زیادہ زور لگایا۔بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وہ امر بہت ہی برا ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ رکھا ہے۔اور وہ ان کا اللہ کے اتارے ہوئے بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ کلام سے اس بات پر بگڑ کر انکار کرنا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (کیوں) اپنا فضل نازل کردیتا