تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 277
فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ۔اِس کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ وہ تھوڑا ایمان لاتے ہیں یعنی بعض باتوں کو مانتے ہیں اور بعض کو ردّ کر دیتے ہیں۔جیسے یہود کے متعلق پچھلے رکوع میں آچکا ہے کہ یُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَیَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ یعنی وہ احکامِ الہٰی میں سے بعض کو تومان لیتے ہیں اور بعض کا انکار کر دیتے ہیں۔پس اِس کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ وہ ناقص طور پر ایمان لاتے ہیں۔لیکن اِس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ بالکل ایمان نہیں لاتے۔کیونکہ نفی کے لئے بھی قلیل کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں۔علّامہ ابو البقاء نے لکھا ہے کہ اس کے معنے اس طرح بھی ہو سکتے ہیں کہ مَا نافیہ مانا جائے اور اصل عبارت یوں سمجھی جائے کہ مَایُؤْمَنُوْنَ قَلِیْلًا وَ لَا کَثِیْرًا۔مگر اس صورت میں بھی معنے ایک ہی رہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان سے بالکل محروم ہو چکے ہیں۔وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ اور جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب آئی جو اس (کتاب کی پیشگوئیوں ) کو جو ان کے پاس ہے وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا سچا کرنے والی ہے تو باوجود اس کے کہ پہلے یہ( لوگ اللہ سے)کافروں پر فتح (پانے کی دعا ) مانگا کرتے تھے جب جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١ٞ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ۰۰۹۰ ان کے پاس وہ چیز آگئی جس کو انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کر دیا پس ایسے کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔حَلّ لُغَات۔یَستَفْتِحُوْنَ۔اِسْتَفْتَحَ فُلَانٌکے معنے ہوتے ہیں طَلَبَ الْفَتْحَ وَاسْتَنْصَرَ اُس نے فتح اور نصرت چاہی۔اور اِسْتَفْتَحَ الْبَابَ کے معنے ہوتے ہیں فَتَحَہٗ اُس نے دروازہ کھولا۔(اقرب) تفسیر۔مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ۔یاد رکھنا چاہیے کہ تصدیق دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک قسم تو یہ ہے کہ مثلاً ہم کہیں کہ زید سچا ہے۔اس کا یہ مطلب ہو گا کہ زید کی طرف جھوٹ منسوب نہیں ہو سکتا۔اور دوسری قسم یہ ہے کہ زید کہے بکرآجائے گا اور وہ آجائے۔تو ہم کہیں کہ بکر نے زید کو اپنی بات میں سچا کر دیاہے۔یعنی اُس نے زید کی بات سچی ثابت کر دی۔اس جگہ بھی تصدیق کے یہ معنے نہیں کہ قرآن کریم نے تورات کی ساری تعلیم کو سچا قرار دے دیا ہے بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ پیشگوئیاں جو بائیبل میں قرآن کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پائی جاتی تھیں قرآن کریم نے اپنے نزول سے اُن کو سچا ثابت کر دیا ہے۔پس یہ تصدیق پیشگوئیوں کے بارہ میں ہے۔یہ