تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 272

دکھانے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی انجیل کے مطابق نہ دکھایا جا سکا۔ایک حصہ کے متعلق تو عیسائیوں نے مان لیا کہ وہ غلط نکلا ہے اور دوسرا حصہ یہود کے لئے حجت نہیں ہو سکتا تھا۔پس بیّنات کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے اُن کے اعتراض کا رد کیا ہے۔باقی انبیاء کے متعلق تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ اُن پر تو یہ اعتراض ہی نہ ہوا تھا۔صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہو اتھا۔پس اس اعتراض کا رد کرنے کے لئے خاص طور پر فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا یہ غلط ہے۔ہم نے اُن کوبہت سے معجزات اور بیّنات دے کر مبعوث کیا تھا۔دوسرا اعتراض یہ تھا کہ حضرت مسیح ؑ پر نعوذ باللہ شیطانی رُوح کا نزول ہوا کرتا تھا۔اس کا رد اللہ تعالیٰ نے اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِکے ذریعہ کیا۔جس طرح عیسائیوں نے حضرت مسیح ؑ کے ایک ہی معجزہ کو یہ کہہ کر باطل کر دیا کہ حضرت مسیحؑ صلیب پر مر گئے تھے اور مر کر ہی قبر میں گئے اسی طرح انہوں نے یہود کے اس اعتراض کو بھی پختہ کر دیا کہ حضرت مسیح ؑ کا نعوذباللہ شیطان سے تعلق ہے۔کیونکہ انجیل میں لکھا ہے کہ شیطان نے حضرت مسیحؑ کا امتحان لیا(متی باب۴) اب بھلا شیطان کو ایک نبی کا امتحان لینے کی جرأت ہی کیسے ہو سکتی ہے۔بلکہ وہ تو اس کے قریب بھی نہیں جا سکتا۔مگر انہوں نے انجیل میں اس کا ذکر کر کے یہود کے اِس اعتراض کو اور بھی مضبوط کر دیا۔کہ حضرت مسیح ؑ کا شیطان سے تعلق تھا۔پس چونکہ اس اعتراض کا بھی کسی اور نبی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسیح ؑ کا الگ ذکر کر کے اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ فرما دیا۔اور اس اعتراض کو باطل کر دیا کہ جو یہود آپ کی ذات پر کرتے تھے۔یہاں تک تو یہود کے نقطۂ نگا ہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کا جواب دیا گیا ہے۔کہ حضرت مسیح ؑ کا باقی انبیاء سے علیحدہ کیوں ذکر کیا گیا ہے۔اب میں عیسائیوں کے نقطۂ نگاہ کو مد نظر رکھ کر جواب دیتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔عیسائی اس آیت سے فائدہ اُٹھا کر حضرت مسیح ؑ کو ابن اللہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح ؑ اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو اُن کو وَ قَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ میں پہلے ہی شامل کر لیا گیا تھا پھر ان کا الگ ذکر کیوں کیا گیا۔ان کا الگ ذکر کرنا بتاتا ہے کہ اُن کو رسولوںسے بالا ہستی قرار دیا گیا ہے۔اِس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ وہ انبیاء جن کو وَ قَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِمیں بیان کیا گیا ہے۔اُن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی الگ جماعتیں موجود نہ تھیں مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام کی کوئی جماعت نہ تھی۔حضرت سلیمان ؑکی کوئی جماعت نہ تھی۔حضرت یحییٰ ؑ کی کوئی جماعت نہ تھی۔حضرت الیاس ؑ کی کوئی جماعت نہ تھی۔حضرت زکریا ؑ کی کوئی جماعت نہ تھی۔اسی طرح دانی ایل اور حزقی ایل کی کوئی جماعت نہ تھی۔پس ان کا الگ ذکر کرنے کی بھی کوئی ضرور ت نہ تھی۔لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جماعت یہود سے الگ موجود تھی اس لئے ضروری تھاکہ ان کا علیحدہ ذکر کیا