تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 268

کی ازواج مطہرات کے خلاف نہایت گندی نظمیں اور اشعار بنا بنا کر پڑھا کرتے تھے۔ایک مدت تک تو صحابہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق صبر سے کام لیتے رہے مگر جب وہ اِس خباثت میں حد سے بڑھ گئے تو بعض صحابہؓ نے حضرت حسّان ؓ سے خواہش کی کہ وہ ان کا جواب دیں۔حضرت حسّان ؓنے اُن کے کہنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے متعلق عرض کیا۔کہ یا رسول اللہ ! انہوں نے آپ پر بہت حملے کئے ہیں میں چاہتا ہوں کہ اُن کو جواب دوں۔اور اُن کے عیوب ظاہر کروں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جواب دینا اچھی بات ہے مگر اس میں ایک دِقّت ہے اور وہ یہ کہ اُن کے اور ہمارے آبائو اجداد ایک ہی ہیں۔اگر تم اُن پر حملہ کرو گے تو وہ حملہ ہم پر بھی ہو گا۔حضرتحسّان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ! میں آپ کو اور آپ کے خاندان کو اُن سے اس طرح الگ کرلوں گا جس طرح مکھن میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔یہ اُن کے قادر الکلام ہونے کی دلیل تھی۔کیونکہ قادرالکلام شاعر ہی اس رنگ میں شعر کہہ سکتا ہے کہ دوسرے کو جواب بھی دیدے اور اپنے بزرگوں پر بھی حملہ نہ ہونے دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اُھْجُ قُرَیْشًا وَرُوْحُ الْقُدُسِ مَعَکَ (البحر المحیط زیر آیت ھذا) یعنی اے حسّان! قریش کی ہجو کر رُوح القدس تیرے ساتھ ہے۔اب یہ کوئی الہام نہ تھا جس کا آپؐ نے ذکر فرمایا ہو۔بلکہ بغیر الہام کے آپؐ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔کیونکہ حسّانؓ اُس وقت دین کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔پس رُوح القدس کے الفاظ سے کسی کا یہ سمجھنا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو کوئی خصوصیت حاصل تھی درست بات نہیں۔اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت حسّان ؓ کو فرمایا۔وَجِبْرِیْلُ مَعَکَ (البحرالمحیط زیر آیت ھذا) یعنی جبریل تیرے ساتھ ہے۔حضرت حسّان ؓ اپنے ایک شعر میں بھی فرماتے ہیں۔؎ وَ جِبْرِیْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْنَا وَ رُوْحُ الْقُدُسِ لَیْسَ لَہٗ کِفَاءٗ (البحرالمحیط زیر آیت ھٰذا ) یعنی اللہ کے رسول پر اُترنے والا جبریل ہم میں ظاہر ہوا ہے اور وہ ایسی پاکیزہ رُوح ہے جس کا کوئی مثیل نہیں۔یعنی جبریل جو اللہ کا رسول ہے ہم میں ہے اور روح القدس کا کوئی مثیل نہیں۔اس شعر کے مطابق تمام صحابہ کرامؓ کو رُوح القدس کی تائید حاصل تھی۔پس صرف روح القدس کی تائید حاصل ہونے سے عیسائیوں کا یہ استدلال کرنا کہ حضرت مسیح ؑ ابن اللہ تھے یاا لٰہ تھے نادانی ہے۔