تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 267

اِسی طرح روح القدس کے ذکر سے یہ بتلانا مدّنظر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی دوسرے انبیاء کی طرح الہام ہوتا تھا۔نہ یہ کہ اُن کو دوسرے انبیاء پر کوئی خاص فضیلت حاصل ہے۔یا وہ صاحبِ شریعت نبی ہیں۔اور اگر رُوح کے معنے فرشتے کے کئے جائیں اور روح القدس کے معنے پاک فرشتہ کے لئے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ اُن کی تائید کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو مقرر کر دیا تھا۔تاکہ وہ لوگوں کے دلوں میں اُن کی قبولیت بٹھائیں یا خود اُن کے دل کو مضبوط کریں۔چنانچہ ایک دوسری آیت سے اس کی تشریح ہو جاتی ہے فرماتا ہے۔وَ اِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَ بِرَسُوْلِيْ(المآئدۃ : ۱۱۲) اس واقعہ کو بھی یاد کرو جبکہ میں نے حواریوں کو وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائو۔اور یہ ظاہر ہے کہ وحی عام طور پر ملائکہ کے توسط سے ہی ہوا کرتی ہے۔پس ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تائید جبرائیل کے ذریعہ کی۔اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے سب نبیوں بلکہ اعلیٰ درجہ کے مومنوں کو بھی نصیب ہوتی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کی نسبت قرآن کریم میںآتا ہے۔اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ (المجادلۃ:۲۳) یعنی یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان راسخ کر دیا ہے اور اپنی طرف سے رُوح بھیج کر اُن کی مدد کی ہے۔یعنی ملائکہ کو اُن کی مدد پر مقرر فرمایا ہے۔گو اس جگہ روح القدس کے الفاظ نہیں مگر رُوْحٌ مِّنْہُ کے الفاظ پائے جاتے ہیں۔اور وہ رُوح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے وہ مقدس ہی ہوتی ہے۔اِسی طرح اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۠۔(النّحل:۱۰۳) یعنی اے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تُو لوگوں سے یہ کہدے کہ روح القدس نے اِس قرآن کریم کو تیرے رب کی طرف سے حق و حکمت کے ساتھ اُتارا ہے تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں وہ ہمیشہ کے لئے ایمان پر قائم کردے۔نیز اُس نے یہ کتاب مومنوں کی مزید ہدایت اور انہیں بشارت دینے کے لئے نازل فرمائی ہے۔اِسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے۔فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ (البقرۃ :۹۸) یعنی رُوح القدس نے اِس کتاب کو تیرے دل پر اللہ تعالیٰ کے اِذن کے ساتھ نازل کیا ہے۔پس بیّنات دیئے جانے اور مؤید بروح القدس ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی خاص فضیلت نہیں دی جا سکتی۔قرآن کریم کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے بھی ثابت ہے کہ روح القدس کا نزول حضرت مسیحؑ ناصری کے علاوہ اور انبیاء بلکہ غیرانبیاء پر بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ حضرتحسّان ؓ کا واقعہ اس پر شاہد ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اس زمانہ کے اشرار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ