تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 266
آیت کے ماتحت لکھتے ہیں۔وَیَحْتَمِلُ اَنْ تَکُوْنَ التَّقْفِیَّۃُ مَعْنَوِیَّۃً وَھِیَ کَوْنُھُمْ یَتَّبِعُوْنَہٗ فِی الْعَمَلِ بِالتَّوْرٰۃِ وَ اَحْکَامِھَا وَیَاْمُرُوْنَ بِـاِتِّبَاعِھَاوَالْبَقَاءِ عَلٰی اِلْتِزَامِھَا۔(البحر المحیط ) یعنی آیت زیر بحث میں قَفَّیْنَا کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ تورات پر عمل کرنے اور اس کے احکام کو بجا لانے میں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے تھے اور لوگوں کو اس بات کی تلقین کرتے تھے کہ تورات کے احکام پر پوری طرح عمل کیا جائے۔اورہمیشہ اس پر عمل پیرا رہنے کی کوشش کی جائے گویا ظاہری طور پر نقشِ قدم پر چلنا ہی مراد نہیں بلکہ معنوی طور پر بھی چلنا مراد ہے۔(ب) وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَ اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۔بیّنات اور روح القدس کے ذریعے حضرت مسیحؑ کا تائید پانا یہ دونوں چیزیں ایسی نہیں جو صرف حضرت مسیح ؑ ناصری کے ساتھ مخصوص ہوں یا اس سے دوسرے انبیاء پر اُن کی کسی فضلیت کا استدلال ہو سکے۔چنانچہ قرآن کریم اِسی سورۂ بقرہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ (البقرۃ :۹۳) یعنی موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے۔مگر پھر بھی تم نے اُس کے (پہاڑ پر جانے کے)بعد شرک کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔اِس سے صاف ظاہر ہے کہ اِس بارہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی خصوصیت حاصل نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیّنات دیئے گئے تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا يَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ(البقرۃ :۱۰۰) یعنی یقیناً ہم نے تیری طرف بینات نازل کی ہیں۔جن کا نافرمانوں کے سوا اور کوئی انکار نہیں کرتا۔اسی طرح سورہ مومن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے زمانہ کی اقوام کی تباہی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (المؤمن:۲۳)یعنی اُن کے ہلاک ہونے کا باعث یہ تھا کہ اُن کے پاس اپنے اپنے وقت میں ہمارے رسول بیّنات لے کر آئے تھے اور انہوں نے اُن کا انکار کر دیا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے ان کو گرفتارِ بلا کر دیا۔اور وہ طاقتور اور بعض شرارتوں پر فوری سزا دینے والا ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جس قدر انبیاء دنیا میں آئے سب اپنے ساتھ بیّنات بھی رکھتے تھے۔اگر اُن کے ساتھ بیّنات نہ ہوتے تو وہ رسول ہی ثابت نہیں ہو سکتے تھے۔پس آیت زیرِ تفسیر میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے نام کے ساتھ بیّنات کا ذکر کرنے سے یہ ہر گز مراد نہیں کہ ان کو اس امر میں کوئی امتیازی خصوصیت حاصل تھی بلکہ اس سے یہود کو صرف یہ بات بتلانا مدّنظر ہے کہ مسیح علیہ السلام بھی اُن تمام انبیاء کی طرح جن کی صداقت کے تم قائل ہو اپنے ساتھ اپنی صداقت کے نشانات رکھتے تھے۔