تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 265
ہو۔اِسی طرح مبارک اور مقدس کلام بھی صرف پاکیزہ خیالات کو ہی نہیں کہتے ورنہ ایک فلاسفر کے خیالات بھی پاکیزہ ہو سکتے ہیں۔وہ بھی طبیعات کے متعلق نئے سے نئے نکتے نکالتا رہتا ہے۔مگر وہ مؤید بروح القدس نہیں ہوتا۔وہ وحی الٰہی سے مشرف نہیں ہوتا۔وہ ایسے خیالات سے مشرف نہیں ہوتا جو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔مؤید بروح القدس صرف وہ کلام ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔اور جو ہر لحاظ سے مبارک اور پاکیزہ ہوتا ہے۔(۲) رُوح کے معنے فرشتہ کے بھی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے روح القدس کے معنے ہیں فرشتۂ تقدس و برکات۔فرشتے دو۲ قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام لاتے ہیں۔دومؔ وہ جو اس کلام کو یا قضاء وقدر کو دنیا میں جاری کرتے ہیں۔جو فرشتے کلامِ الٰہی لانے والے ہوتے ہیں اُن کو روح القدس کہتے ہیں۔خصوصاً کلام لانے والے فرشتوں کا سردار جبرائیل روح القدس کہلاتاہے۔پس اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ کے یہ معنے ہیں کہ (۱) ہم نے تقدس و برکات والے فرشتہ سے اس کی مدد کی۔جو خدا تعالیٰ کے حضور سے کلام لاتا ہے یا (۲)خدا نے اُسے اپنے پاک اور مبارک کلام سے مشرف کیا اور اُسے طاقت بخشی۔تفسیر۔جیسا کہ حَلِّ لُغات میں بتایا جا چکا ہے لفظ قَفَّیْنَا کے معنے ہیں’’ہم نے پیچھے چلایا‘‘۔اِس لفظ سے نہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اور بھی بہت سے انبیاء آئے۔بلکہ یہ ظاہر کرنا بھی مطلوب ہے کہ وہ صاحب شریعت نبی نہ تھے۔بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متبع تھے اور اُسی راستہ پر چلتے تھے جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام چلے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں اس سے یہ استدلال فرمایا ہے کہ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کئی ایسے انبیاء آئے جن کی کوئی جدید شریعت نہ تھی۔بلکہ وہ تورات کے احکام پر ہی لوگوں سے عمل کرواتے اور اُسی کی تعلیم کو رائج کرتے تھے‘‘۔(نفس مضمون شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۴۰،۳۴۱) عام طور پر مفسّرین یہ خیال کرتے ہیں کہ ہر رسول نئی شریعت لے کر آتا ہے۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر انبیاء آئے وہ سب کے سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع اور ان کی شریعت پر عمل کرنے والے تھے۔اِسی وجہ سے علّامہ ابو حیان نے اپنی تفسیر میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جتنے نبی ہوئے ہیں وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے بلکہ وہ حضرت موسیٰ ؑکی شریعت ہی کے تابع ہوا کرتے تھے۔چنانچہ وہ اپنی تفسیر بحِر محیط میں اس