تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 264
ایسی پیشگوئیاں ہوں جو قرب زمانہ کی تعیین کرتی ہوں نہ کہ خود اس زمانہ کی تو وہ پیشگوئیاں بھی اُس نبی کے لئے بیّنات میں سے شما ر نہیں ہوں گی۔جیسے وہ نشانات و حالات ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ظاہر ہو ئے۔اور جن سے آپ کی صداقت کا استنباط کیا جا سکتا ہے وہ آپ کی صداقت کے دلائل تو ہیں مگر چونکہ وہ معیّن رنگ میں آپ کی شناخت نہیں کراتے اس لئے وہ بینات نہیں کہلا سکتے ہیں۔مگر دوسری قسم کے دلائل وہ ہیں جو بیّنات کہلاتے ہیں۔وہ ایسے دلائل ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں کسی نبی کی صداقت کا مشاہدہ کراتے ہیں۔اور جن کے ذریعہ حق و باطل بالکل کھل جاتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصَّلوٰۃ وَالسَّلام نے بھی طاعون کی پیشگوئی کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی طاعون کی پیشگوئی فرمائی۔اب یہ صرف دلیل ہی نہیں بلکہ بیّنہ بھی ہے۔کیونکہ یہ پیشگوئی صرف یہی ثابت نہیں کرتی کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں آنیوالے کو آنا چاہیے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں۔غرض بیّنہ وہ ہوتی ہے جو صداقت کی وضاحت کر دیتی ہے۔مگر دوسری دلیل صرف اشارہ کنا یہ سے صداقت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کے بعض دلائل صرف کنایہ و اشارہ کی قسم میں سے ہیں اور بعض بیّنات ہیں۔اور درحقیقت ہر نبی دونوں قسم کے دلائل اپنے ساتھ رکھتا ہے۔کیونکہ صرف کنایہ و اشارہ ہی صداقت کے ثبوت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔بلکہ اس کے ساتھ بیّنات کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ عام لوگوں پر اس کی صداقت واضح ہو جائے ورنہ ان کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ یہ وہی شخص ہے جس کا انتظار کیا جار ہا تھا۔اَلْبَیّنَاتُ کے معنے علّامہ ابوحیّان اپنی تفسیر میں یہ لکھتے ہیں اَلْحُجَجُ الْوَاضِحَۃُ الدَّالَّۃُ عَلٰی نُبُوَّتِہٖ۔یعنی ایسے واضح دلائل جو حضرت مسیح ؑ کی نبوت کو ثابت کرنے والے تھے(بحر محیط زیر آیت ھذا) رُوْحُ الْقُدُ سِ کے معنے لسان العرب میں یہ لکھے ہیں کہ خدا کا پاک یا مبارک کلام۔رُوح کے معنے کلام اور قُدس کے معنے مبارک یا پاک کے ہیں۔اس لئے دونوں لفظوں کے مل کر یہ معنے ہوئے کہ مبارک یا مقدس کلام۔لسان العرب اور عربی کی دوسری لغت کی کتب دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیس کا لفظ صرف اُن اشیاء کے متعلق بولا جاتا ہے جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہوں یوں تو پاکیزگی کے لئے اور بھی کئی الفاظ ہیں مگر ان کے لئے یہ شرط نہیں۔صرف تقدیس کے متعلق یہ شرط ہے کہ اس کا استعمال شرعی یا روحانی اشیاء کے متعلق ہوتا ہے۔پس مقدس پاکیزگی وہ ہے جو شریعت کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔جیسے مقدس مقام وہ ہو گا جو شرعی اور روحانی طور پر اعزاز رکھتا ہو۔یوں تو نظافت کا لفظ بھی پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے۔مگر اس کا تعلق شرعی اور روحانی پاکیزگی کے ساتھ نہیں ہوتا۔جیسے ایک کافر بھی نظیف کہلا سکتا ہے لیکن مقدس انسان وہی کہلاسکتا ہے جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے روحانی اعزاز حاصل