تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 263
وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١ٞ اور ہم نے( یقیناً) موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کے بعد ہم نے (ان) رسولوں کو (جنہیں تم مانتے ہو) اس کے پیچھے وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَ اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ بھیجا۔اور عیسیٰ ابن مریم کو (بھی)ہم نے کھلے کھلے نشانات دیئےاور روح القدس کے ذریعہ سے اسے طاقت بخشی الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى (لیکن تم نے سب کا مقابلہ کیا )تو پھر( تم ہی بتاؤکہ)کیا (یہ بات ناپسندیدہ نہیں کہ) جب بھی تمہارے پاس کوئی اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ١ٞ وَ فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ۰۰۸۸ رسول اس (تعلیم )کو لے کرآیاجسے تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تو تم نے تکبر (کا مظاہرہ) کیا۔چنانچہ بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کر دیا۔حَلّ لُغَات۔قَفَّیْنَا: قَفٰی فُـلَانٌ زَیْدًا اَوْ بِزَیْدٍ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کے معنے ہیں وہ زید کے پیچھے پیچھے چلا۔اور قَفّٰی کے معنے ہیں پیچھے چلایا۔یہ لفظ قَفَاسے نکلا ہے اور قَفَا انسان کے سر کا پچھلا حصہ ہوتا ہے جسے اردو زبان میںگُدی کہتے ہیں۔اورگُدی کے ساتھ ساتھ ہونے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ چیز پیچھے بھی ہو۔اور قریب بھی۔اصل معنے تو اس کے ساتھ ساتھ اور قریب قریب جانے کے ہیں مگر محاورہ میں اس کے معنے وسیع کر لئے گئے ہیں۔اس لئے اب یہ لفظ ایسے موقع پر بھی استعمال کر لیا جاتا ہے جبکہ کوئی پیچھے چل کر آئے خواہ وہ فاصلہ پر ہی ہو۔(اقرب) بَیِّنٰت۔وہ دلائل ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں کسی نبی کی صداقت کا ثبوت ہوتے ہیں۔دلائل دو۲ قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل وہ جن سے کسی نبی کی صداقت کا استنباط کیا جاتا ہے۔مثلاً زمانہ کے خراب ہوجانے کے وقت نبوت اور اس کی ضرورت بتانے کے لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا خراب ہو گئی ہے۔لوگ شریعت کو بھول گئے ہیں۔اس کے احکام انہوں نے ترک کر دیئے ہیں اس لئے اب ایک نبی کی ضرورت ہے اور وہ آنے والا یہی ہے۔یہ سب باتیں ایک نبی کی ضرورت بتانے کے لئے بطور استنباط ہوتی ہیں۔یہ دلائل تو ہیں مگر بیّنات نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح اگر کوئی