تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 262
میں بھی لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً والا مضمون ہی چل رہا تھا جو یہاں آکر ختم ہوا۔اور انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ تم شریعت کے احکام کو اس طرح کھیل بنا لینے کے جُرم میں مختلف قسم کے آسمانی عذابوں میں گرفتار رہو گے اور تمہیں کسی کی مدد حاصل نہیں ہو سکے گی۔پس تمہارا یہ دعویٰ کہ تمہیں صرف چند دن عذاب ہو گا باطل ہے۔تمہیں عذاب ہو گا اور عذاب بھی ایسا کہ جو ہلکا نہیں کیا جائے گا۔یعنی ایک لمبے عرصہ تک وہ تمہیں سوزش اور جلن میں مبتلا رکھے گا۔دوسرا خیال ان کا یہ تھا کہ ہمارا انبیاء سے تعلق ہے۔وہ ہماری مدد کریں گے۔سو اس کی بھی اللہ تعالیٰ نے تردید فرما دی کہ ان کا یہ خیال بھی غلط ہے۔ان کی کوئی بھی مدد نہیں کرے گا۔غرض قرآنی ترتیب کا یہ اصول ہے کہ وہ اپنے پہلے مضمون کو آخر میں پھر دُہرا دیتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ یہاں گزشتہ بحث ختم ہوتی ہے۔اور آئندہ نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔اِس رکوع میں پہلے جس عہد کا ذکر کیا تھا وہ عام تھا مگر اس کے بعد اس خاص عہد کا ذکر کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے اُن یہود سے تعلق رکھتا ہے جو مدینہ اور اس کے نواح میں رہنے والے تھے۔اس کے بعد اُن کی دو۲ اور قومی غلطیوں کا ذکر فرمایا۔یہ وہ غلطیاں تھیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہود میں خصوصیت کے ساتھ پائی جاتی تھیں۔پھر اس ترتیب میں بھی پہلے ان غلطیوں کا ذکرکیاجو نیکیوں کے ترک کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔اور پھر ان غلطیوں کا ذکر فرمایا جو اپنی ذات میں گناہ اور ظلم ہیں۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے وہ جن کا نوع انسان سے تعلق ہوتا ہے۔پھر وہ گناہ بھی جن کا دوسروں سے تعلق ہوتا ہے۔دو۲ قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل وہ گناہ جن میں انسان کو احساس ہو کہ میںگناہ کر رہا ہوں اور وہ اُن گناہوں کو چُھپانے کی کوشش کرے۔دوم وہ گناہ جن کے کرتے وقت انسان محسوس ہی نہ کرے کہ میں کسی گناہ کا ارتکاب کر رہا ہوں۔اِس رکوع میں اللہتعالیٰ نے تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِيْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِهِمْ فرما کر دو۲ مثالیں یہود کے اُن گناہوں کی بیان فرمائی ہیں جن کے متعلق انہیں احساس ہونا چاہیے تھا کہ اگر یہ بات لوگوں کے سامنے آئی تو وہ ملامت کریں گے مگر باوجود اس کے کہ یہ نہایت واضح گناہ تھے اور ان کا اُن کی قوم کے ساتھ تعلق تھا پھر بھی وہ دلیری کے ساتھ اِن گناہوں میں ملوث رہے اور اپنی شریعت کی بے حرمتی کرتے رہے۔