تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 251
اور کسی کے سامنے سر بسجود نہیں ہوںگے۔پس طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں خدا تعالیٰ نےیہ نرالا طریق کیوں اختیار کیا ہے۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم اور عام عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ بعض دفعہ نہی پر زور دینے کے لئے نہی کی بجائے نفی استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ بات زیادہ زوردار طریق پر ذہن نشین کروائی جا سکے۔اس کی مثال ہماری زبان میں بھی پائی جاتی ہے۔ہم بعض دفعہ ایک بچہ کو بجائے یہ کہنے کے کہ تم ایسا مت کرو یہ کہتے ہیں کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ تم ایسا ہرگز نہیں کرو گے۔یا کہتے ہیں کہ میں تو یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ تم ایسا کروگے۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا یہ طریق نہی سے زیاد ہ مؤثر ہے۔یہی طریق اللہ تعالیٰ نے اس جگہ اختیار فرمایا ہے۔اور لَا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰهَکہنے کی بجائے لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فرماکر اپنے اس یقین اور اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ تمہارے متعلق تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ تم شرک کروگے۔بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تم ہمیشہ اُسی کی عبادت کیا کرو گے۔گویا یہ کام صرف بُرا ہی نہیں بلکہ ایک اور وجہ بھی ہے جس کی وجہ سے تمہیں اس سے بچنا چاہیے۔اور وہ ہمارے اور تمہارے تعلقات ہیں۔ہم اُمید رکھتے ہیں کہ تم ان تعلقات کی وجہ سے ایسا کبھی نہیں کرو گے۔یہ جذبات کو اُبھارنے کے لئے ایک نہایت ہی مؤثر طریق کلام ہے۔اس سے جذباتِ محبت برانگیختہ ہو جاتے ہیں۔اور اگر اس کے بعد بھی کوئی شخص ایسے حکم کو توڑے تو اس کا جرم زیادہ شدید ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ایک حکم کو بھی توڑتا ہے اور دوسرے کی امید بھی ٹھکرا دیتا ہے۔اِس کی اور توجیہات بھی کی گئی ہیں۔مگر میرے نزدیک جذباتی پہلو کے لحاظ سے اس توجیہہ کو دوسری توجیہات پر فضیلت حاصل ہے۔اس کی ایک توجیہہ یہ بھی کی جاتی ہے کہ اصل میں یہ عَلٰی اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا ہے۔حرف جار کو حذف کر دیا گیا ہےاور اس کے بعد اَنْ کو بھی محذوف کر کے فعل کو مرفوع بنا کر لَا تَعْبُدُوْنَ کر دیاگیا ہے۔اور گو یہ بھی ممکن ہے۔مگر میرے نزدیک پہلے معنے زیادہ اچھے ہیں۔کیا بلحاظ معنوی خوبی کے اور کیا بلحاظ ظاہری کے۔نفی اُمید بھی دلاتی ہے اور اس میں نہی بھی آجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے ان توقعات کا اظہار کیا تھا کہ تم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لائو گے، والدین کے ساتھ نیک سلوک کروگے، یتامیٰ کے ساتھ حسن سلوک کرو گے، مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کروگے اور لوگوں کو ہمیشہ اچھی باتیں کہو گے۔نمازیں پڑھو گے، زکوٰۃ دو گے اور یہ وہ احکام ہیں جن سے تمہیں کوئی اختلاف نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے متعلق تمہیں اختلاف ہے۔حضرت مسیحؑ ناصری کی صداقت کے متعلق تمہیں اختلاف ہے مگر یہ ایسی باتیں ہیں جن سے تمہیں کوئی اختلاف نہیں بلکہ تم خود ان کو اپنے لئے تسلیم کرتے ہو۔تمہیں کہا گیا تھا کہ تم توحید الہٰی پر قائم رہو اور تم اس بات کو مانتے ہو کہ تمہیں ایسا حکم دیا گیا تھا۔تمہیں