تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 250

میں رکھتا ہے۔درجہ کے لحاظ سے چونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ہے اور انسان ادنیٰ۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے حقوق کا ذکر پہلے رکھا جاتا ہے۔اور بندوں کے حقوق کو بعد میں۔مگر جہاں بندوں کے حقوق کا ذکر پہلے ہوتا ہے وہاں ان کی کمزوری کو مدنظر رکھ کر پہلے ذکر کیا جاتا ہے۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ کمزور نہیں بلکہ طاقتور ہے اس لئے اس کے حقوق کا بعد میں ذکر کیا جاتا ہے۔جیسے اِسی آیت میں یتامیٰ کی کمزوری کے لحاظ سے ان کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور مساکین کا بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔لیکن اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا حق بیان فرمایا ہے اور بعد میں بندوں کا حق بیان کیا ہے۔اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ میں استقلال کے ساتھ بغیر کسی ناغہ کے نماز ادا کرنا شامل ہے۔اور نوافل اس کے تابع ہیں اور اٰتُوا الزَّكٰوةَ میںصدقہ و خیرات بھی شامل ہیں۔جو زکوٰۃ کے تابع ہے۔گویا بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادات کی ادائیگی کا اس آیت میں ذکر فرما دیا۔بہرحال قرآن کریم نے بائیبل کے پراگندہ احکام کو ایسی عجیب ترتیب دی ہے کہ جس سے ان احکام کی عظمت اور بھی نمایاں ہو گئی ہے۔اوّل خدا تعالیٰ کی عبادت کو لیا کہ وہ سب سے اعلیٰ ہے۔پھر بندوں سے حسن ِ سلوک کا ذکرکیا۔اور اُن میں سے بھی پہلے والدین کا ذکر کیا جو بطور حق کے حسنِ سلوک کے مستحق ہوتے ہیں۔پھر قریبیوں اور رشتہ داروں کو رکھا۔جن کا مقام والدین کے بعد دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کے بعد عام لوگوں کو لیا۔اور اُن میں سے پہلے اُن کا ذکر کیاجو اپنی خبر گیری آپ کرنے کے قابل نہیں ہوتے یعنی یتامیٰ۔پھر مساکین کو لیا جو بوجہ خود طاقت رکھنے کے اسقدر مدد کے محتاج نہیں ہوتے جس قدر کہ یتامیٰ۔اِس کے بعد قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا فرما کر سب لوگوں سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیا۔جس میں دو۲ امور شامل تھے۔اوّل تمام بنی نوع انسان سے مذہب و ملّت کے امتیاز کے بغیر حسن سلوک۔دوم بنی نوع انسان کی ترقی کی فکر اور دوسرے لوگوں کو اس کی تلقین۔پھر یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تم خدا اور اس کی مخلوق دونوں کے حقوق توڑتے ہو اور ان احکام کی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ تم ان کو تسلیم کرتے ہو تو یہ کس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ تم اِن حالات میں مومن ہو۔اور وہ قوم جو دنیا کی اصلاح کر رہی ہے کافر ہے؟حقیقت یہی ہے کہ تمہارا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیںرہا۔اور تم صداقت سے بہت دُور جا چکے ہو۔اس جگہ اس سوال پر روشنی ڈالنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں لَا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّہَ کہنے کی بجائے لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَکیوں فرمایا ہے۔اگر لَا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّہَ کہاجاتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ تم نے خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی پرستش نہیں کرنی۔مگر کہا یہ گیا ہے کہ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ یعنی ہم نے انہیں کہاکہ تم خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی پرستش نہیں کروگے۔گویا بجائے نہی پر زور دینے کے اُن سے اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے سوا