تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 249

بچپن میں ہی محروم ہو جاتے ہیں۔اور اس وجہ سے وہ قوم کی ایک قیمتی امانت ہوتے ہیں۔اگر اُن کی صحیح نگرانی کی جائے، ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے، اُن کو آوارگی سے محفوظ رکھا جائے تو وہ قوم کا ایک مفید وجود بن جاتے ہیں۔اور نہ صرف ان کی اپنی زند گی سنور جاتی ہے بلکہ وہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی سنوارنے والے بن جاتے ہیں۔ان کے بعد مساکین کا ذکر کیا۔یہ لوگ گو محتاج ہوتے ہیں مگر سوال کے ذریعہ کسی کو اپنی غربت کا پتہ لگنے نہیں دیتے۔پس مساکین کا ذکر کر کے اس طرف توجہ دلائی کہ تمہیں یہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ جو شخص تمہارے سامنے دست سوال دراز کرے اس کی تو تم مدد کردو اور جو خاموش بیٹھا رہے اس کو تم نظر انداز کر دو۔بلکہ تم ایسے لوگوں کی طرف بھی توجہ رکھو جو غربت کے باوجود اپنے وقار کو قائم رکھتے ہیں اور اخلاقی بلندی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔اس کے بعدتمام بنی نوع انسان کی ہمدردی کا ذکر کیا۔اور فرمایا۔قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا۔یہ لفظ حُسْنٌ اور حَسَنٌ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔لیکن بعض نے فرق بھی کیا ہے۔کہ اگر حَسَنٌ ہو تو مصدر محذوف کی صفت ہو گا۔یعنی قُوْلُوْا لِلنَّاسِ قَوْلًا حَسَنًا۔اور اگرحُسْنٌ ہو تو حذفِ مضاف ہو گا۔یعنی قُوْلُوْا لِلنَّاسِ قَوْلًا ذَا حُسْنٍ (املاء) دونوں صورتوں میں اس کے معنے یہ ہیںکہ تم لوگوں کو ایسی باتیں کہو جو نہایت اچھی ہوں۔عام بنی نوع انسان کو بعد میں اس لئے رکھا کہ یہ لوگ یتامیٰ اور مساکین کی طرح محتاج نہیں ہوتے بلکہ اپنی ضروریات کے آپ متکفل ہوتے ہیں۔پس سب سے کم احتیاج رکھنے کی وجہ سے ان کو سب سے آخر میں رکھا۔غرض ان تمام احکام میں ایک اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہے۔ایک خدا کی پرستش کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ایک وہ جو بطور حق نیک سلوک کے مستحق ہیں اور دوسرے وہ جو بطور رحم کے مستحق ہیں۔پہلوں کا مقدم ذکر کیا کیونکہ وہ ایک قرضہ کی ادائیگی کی سی صورت تھی۔اور جو بطور رحم احسان کے مستحق تھے ان کو بعد میں رکھا۔اور پھر جو شخص جس قدر رحم کا محتاج تھا اُسی درجہ پر اُس کا ذکر کیا۔اِس کے بعد عبادات کو لیا۔اور اُن میں سے بدنی اور مالی عبادات کی سردار عبادت نماز اور زکوٰۃ کو چُن لیا۔اور اس کا ذکر بنی نوع انسان سے حسن سلوک کے بعد اس لئے کیا کہ بنی نوع انسان کے ساتھ حسن سلوک روحانیت کی طرف پہلا قدم ہے اور انسان کو کئی مواقع پر فطرتاً بغیر کسی شریعت کے اس کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور عبادات کا تفصیلی طور پر بجا لانا ایک دوسرا قدم ہے۔پس جو شخص پہلا قدم اٹھائے گا۔وہی دوسرا قدم اُٹھا سکے گا۔یہ امر یادر کھنا چاہیے کہ قرآن کریم کبھی تو درجات کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے حقوق کا پہلے ذکر کر دیتا ہے اور بندوں کے حقوق کا بعد میں ذکر کرتا ہے۔اور کبھی بندوں کے حقوق کا پہلے ذکر کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بعد