تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 243
اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس اعلیٰ تعلیم کو جانے دو جس میں تمہیں اس رسول سے اختلاف ہے۔تم صرف ان افعال کو زیربحث لائو جن کو تم بھی قومی اور اخلاقی ترقی کے لیے ضروری سمجھتے ہو اور بتائو کہ کیا تم ان پر کاربند ہو۔چنانچہ فرماتا ہے کہ ہم نے تم سے ایک عہد لیا تھا اور عہد بھی ایسا جو نہایت پختہ تھا۔جس کے پورا کرنے پر انعام اور توڑنے پر سزا مقدر تھی۔مگر کیا وہ عہدتم نے پورا کیا؟ اگر تمہارا اپنے مذہب پر بھی عمل نہیں رہا اور ہمارے رسول کا بھی تم انکار کر رہے ہو تو بتائو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تم کتنے بڑے مجرم ہو؟ اس آیت میں جس میثاق کا طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے کوئی خاص عہد مراد نہیں بلکہ مختلف عہد مراد ہیں جو بنی اسرائیل سے متفرق اوقات میں لئے جاتے رہے اور جن پر عمل کرنے کی بائیبل میں ان کو سخت تاکید کی گئی ہے۔اسی لئے یہ احکام بائیبل میں کسی ایک جگہ بیان نہیں ہو ئے بلکہ متفرق مقامات میں اُن کا ذکر آتا ہے۔قرآن کریم نے ان احکام کا اکٹھا ذکر اس لئے کیا ہے تاکہ ان کو یاد دلایا جا ئے کہ وہ اپنے مذہب سے کس قدر دُور جا چکے ہیں۔مزید برآں قرآن کریم نے ان احکام کو ایک اعلیٰ درجہ کی ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے۔جو اس کے حُسن کو نمایاں کرنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور معبود کی پرستش سے بائبل میں بہت سے مقامات پر روکا گیا ہے بلکہ یہ حکم خود مو سیٰ ؑ کےدَس احکام میں بھی پایا جاتا ہے چنانچہ خروج باب ۲۰ آیت۳ تا ۶ میں لکھا ہے:۔’’میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو۔تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا۔تو اُن کے آگے اپنے تئیں مت جھکا۔اور نہ اُن کی عبادت کر کیونکہ میں خداوند تیر ا خدا غیّور خدا ہوں۔اور باپ دادوں کی بدکاریاں اُن کی اولاد پر جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں تیسری اور چوتھی پشت تک پہنچاتا ہوں۔پر اُن میں سے ہزاروں پر جو مجھے پیار کرتے اور میرے حکموں کو قبول کرتے ہیں رحم کرتا ہوں۔‘‘ (۲) والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم بھی انہیں احکام میں موجود ہے۔چنانچہ خروج باب۲۰ آیت۱۲ میں لکھا ہے:۔’’ توُ اپنے ماں باپ کو عزت دے تاکہ تیری عمر اس زمین پر جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے دراز ہووے۔‘‘ اِسی طرح استثنا باب۲۱ آیت۱۸تا۲۱ میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔لکھا ہے:۔