تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 237
بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْٓـَٔتُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ کیوں نہیں؟ جو لوگ بھی کسی قسم کی بدی کمائیں گے اور ان کا گناہ انہیں (چاروں طرف سے) گھیرلے گا وہ دوزخ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۸۲ (میں پڑنے )والے ہیں۔وہ اُس میں (پڑے) رہیں گے۔حَلّ لُغَات۔کَسَبَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں جَمَعَہٗ کسی چیز کو جمع کر لیا۔اور کَسَبَ الْاِثْمَ کے معنے ہوتے ہیں تَحَمَّلَہٗ۔گناہ کمایا۔(اقرب)پس کَسَبَ سَیِّئَۃً کے معنے ہوں گے۔گناہ کیا یا گناہوں کو اکٹھا کر لیا۔تفسیر۔بَلٰی کے معنے ایجابی ہوتے ہیں خواہ اِس سے پہلی عبارت میں نفی کا پہلو ہو یا اثبات کا۔یوں اِس کے معنے’’ہاں‘‘ کے ہوتے ہیں مگر عام طور پر تو ہاں کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ پہلی بات ٹھیک ہے۔لیکن جب بَلٰیکا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ بَلٰی کے بعد جو بات بیان کی گئی ہے وہ ٹھیک ہے۔پہلی بات ہو سکتا ہے کہ غلط ہو اور ہو سکتا ہے کہ غلط نہ ہو۔پس بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْٓـَٔتُهٗ کے معنے یہ ہوئے کہ اِس حقیقت میں تو کوئی شبہ نہیں کہ جو شخص جان بوجھ کر بدی کرتا ہے اور پھر اُس کی بدی اُس کا احاطہ کر لیتی ہے یعنی اتنی غالب آ جاتی ہے کہ نیکیوں کا اثر کمزور پڑ جاتا اور ضائع ہو جاتا ہے تو ایسے لوگ دوزخ کے ساکن ہو جاتے ہیں اور اُن کی حالت اِس بات کی مستحق ہوتی ہے کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک اُس میں رہیں۔دو شرطیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں یعنی بدی کمائے اور غلطی اُس کو گھیرلے۔اِن سے اِس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر بدی انسان کو دوزخ کا مستحق نہیں بناتی بلکہ (۱) علم ہو (۲) ارادہ ہو (۳) نیکی پر بدیاں غالب آ جائیں تب انسان دوزخ کا مستحق ہوتا ہے۔یہی وہ تعلیم ہے جو انسان کے لئے تسلی کا موجب ہو سکتی ہے ورنہ نصاریٰ کا کفّارہ جس میں صرف مسیح ؑ کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا یہود کا دعوٰئے فضیلت جو ہر صورت میں اُن کو عذاب سے محفوظ رکھتا ہے یا ہندوؤں کی محدود نجات جو بار بار انسان کو تناسخ کے چکّر میں ڈالتی ہے یا زرتشتیوں کا نسلی فضیلت کا دعویٰ یہ سارے کے سارے قابلِ اعتراض ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ مذہب ایک ذریعہ نجات کا ہے کسی مذہب کے قبول کرنے کے یہ معنے نہیںکہ اُس مذہب کے قبول کر لینے سے خاص حقوق قائم ہو گئے ہیں۔قانونِ نجات کی بنیاد بہر حال اس امر پر ہے کہ نیک علم،نیک ارادہ اور نیک کوشش کے ساتھ کام کرو تو تمہیں