تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 236

اِن حوالجات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہودیوں کو بہت محدود سزا ملے گی اور اَیَّامًامَّعْدُوْدَۃ کے بھی یہی معنے ہیں، گنتی کے دنوں سے مراد مقررہ دن نہیں بلکہ تھوڑے دن مراد ہیں۔یہ محاورہ اُردو میں بھی ہے کہتے ہیں میرے پاس تو کچھ گنتی کی چیزیں ہیں۔مطلب یہ کہ بہت تھوڑا مال ہے۔بحرِمحیط نے اِس آیت کے نیچے لکھا ہے کہ یہود کا خیال تھا کہ بچھڑے کی پوجا چونکہ چالیس دن کی گئی تھی اِس لئے اِسی قدر عذاب ہمیں ملے گا۔بعض نے چالیس دن کے عذاب کو بھی زیاہ قرار دے کر کہا ہے کہ صرف سات دن یہود کو عذاب ملے گا۔اِس سے پتہ لگتا ہے کہ یہود میں اس قسم کے خیالات اسلامی زمانہ تک بھی قائم رہے تھے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسولؐ ! تو اُن سے پوچھ کیا تم نے اﷲ تعالیٰ سے اِس بارہ میں کوئی عہد لیا ہے۔اگر ایسا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور عذاب دینا یا نہ دینا تو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یہ تمہارے کاہنوں اور رُہبانوں سے تعلق نہیں رکھتا کہ وہ جو چاہیں فیصلہ کر دیں اگر خدا نے یہود کے متعلق کوئی ایسا فیصلہ کیا ہے تو وہ بائبل میں موجود ہونا چاہیے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام یا دوسرے نبیوں کی معرفت اُس کا اعلان ہونا چاہیے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے نبی تو خاموش ہیں اور طالمود کے علماء اپنی قیاس آرائیوں سے اس بارہ میں فیصلہ کرتے ہیں کیا یہ خدا اور اُس کے دین کی ہتک نہیں؟ پھر فرماتا ہے اگر یہ عہد والی بات نہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے علماء اپنے ذہن اور اپنے خیال سے یہ باتیں بناتے ہیں اور یہ ظاہر بات ہے کہ اپنے ذہن اور اپنے خیال سے خدا تعالیٰ کے متعلق باتیں بنا لینا بہت گناہ ہے۔حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو مختلف ادیان میں بگاڑ اِسی وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ لوگوں نے مختلف امور میں اپنی طرف سے قیاس آرائیاں کر کے مختلف ادیان کی طرف منسوب کرنی شروع کر دیں۔آج مسلمان بھی ہر مسئلہ میں جس میں اُنہیں دوسروں سے اختلاف ہوتا ہے اپنی باتوں کو سچ ثابت کرنے کے لئے اسلام کی آڑ لے لیتے ہیں۔قرآن ساکت ہوتا ہے۔حدیث خاموش ہوتی ہے بلکہ بعض دفعہ تو وہ مخالف ہوتے ہیں لیکن یہ رٹ برابر لگی چلی جاتی ہے کہ اسلام یُوں کہتا ہے اسلام کی تعلیم یُوں ہے۔اﷲ تعالیٰ مسلمانوںکو اِس بات کے سمجھنے کی توفیق دے کہ وہ قرآن کو پارہ پارہ نہ کریں اور خدا تعالیٰ کے فرض کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔