تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 235

پڑھ جاؤ بڑی مشکل سے استنباطی طور پر حیات بعد الممات کاثبوت ملے گا۔جس طرح قرآن کریم میں وضاحت سے حیات بعد الممات اور جزاو سزا کا ذکر ہے بائبل میں ایسا ہرگز نہیں۔پس یہود کی اکثریت تو سارے انعام اِسی دنیا میں مانگتی تھی اور سزا بھی اِسی دنیا میں طلب کرتی تھی۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو پوری طرح جزا و سزا اور حشر و نشر کے عقیدہ سے آزاد نہیں ہو سکے تھے وہ لوگ بھی اپنے متعلق یہی خیال کرتے تھے کہ ہم کو کچھ زیادہ سزا نہیں ملے گی کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں اور اگر کوئی سزا ملی بھی تو وہ صرف چند دن کی ہو گی۔اِن لوگوں میں سے بعض کا خیال تھا کہ اِس چند روزہ سزا کے بعد یہودیوں کو خاک کر دیا جائے گا اور اُن کی خاک نیکوں کے قدموں میں لا کر ڈال دی جائے گی۔اور بعض کا خیال تھا کہ یوں نہیں بلکہ یہود کو معاف کر دیا جائے گا۔اِس عقیدہ کے بارہ میں یہود کے مختلف خیالات ذیل میں درج ہیں۔سیل اپنے ترجمہ قرآن میں لکھتا ہے کہ یہود کے نزدیک یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ کوئی یہودی خواہ کتنا ہی شریر ہو اور کسی فرقے کا ہو گیارہ ماہ اور حد سے حد ایک سال سے زیادہ تک دوزخ میں نہیں رہے گا سوائے داتھن ؔاور ایبی رام کے یادہریوں کے جو ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔داتھن اور ایبی رام وہ شخص ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کی تھی اور ایک جماعت بنا کر کوشش کی تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ کی حکومت کو مٹا دیا جائے ( دیکھو گنتی باب ۱۶) اِن کو خدا تعالیٰ نے ایک خاص عذاب کے ذریعہ سے ہلاک کر دیا تھا۔بابلی طالمود کے مطابق سوائے کافروں اورجیروبوم باقی سب یہودی بارہ مہینے تک دوزخ میں رہیں گے پھر جلا کر راکھ کر دیئے جائیں گے اور اُن کی خاک اُڑا کر نیکوں کے قدموں میں ڈال دی جائے گی۔بابامیزیہ (BABA MEIZYA)کی طالمود میں لکھا ہے کہ تمام یہود جو دوزخ میں جائیں گے پھر نکل آئیں گے سوائے تین قسم کے آدمیوں کے۔اوّل بدکار۔دوسرے ہمسایہ کی عصمت دری کرنے والا۔تیسرے ہمسایہ کو بدنام کرنے والا۔ایروبین طالمود میں لکھا ہے کہ دوزخ کی آگ یہودی گنہگاروں کو نہیں چھوئے گی کیونکہ وہ دوزخ کے دروازہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے اور خدا کی طرف واپس لوٹ آئیں گے۔برکوت طالمود (BARAKOT) میں لکھا ہے مرتد اور رومی اور ایرانی دوزخ میں جائیں گے یعنی یہودی گنہگار دوزخ میں جائیں گے ہی نہیں۔اِس طالمود میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسرائیلیوں کو دوزخ سے بہت کم خطرہ ہے ہاں مرتدیہودی کو دوزخ میں جانے کا خطرہ ہے۔اِسی طرح غیر یہودیوں کے لئے خطرہ ہے۔(جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ Jehanna)