تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 234
اِس آیت سے اُن کتب کی طرف بھی اشارہ سمجھا جا سکتا ہے جو درجنوں کی تعداد میں یہود و نصاریٰ میں پائی جاتی ہیں اور الہامی کتب کہلاتی ہیں یا الہامی کتب کا درجہ رکھتی ہیں۔لیکن خود مسیحی اور یہودی بھی اُن کی صداقت میں شک کرتے ہیں۔عیسائیوں نے ’’ ایپو کریفا‘‘ کے نام سے ایسی کتابوں کا مجموعہ شائع کیا ہوا ہے۔یہ سب کی سب کتابیں وہ ہیں جن کو اُن کے لکھنے والوں نے یا عیسائیوں کی بعض جماعتوں نے خدائی کتابیں قرار دیا ہے لیکن عیسائی بحیثیتِ مجموعی اُن کو خدائی کتابیں تسلیم نہیں کرتے اور سچی انجیلیں قرار نہیں دیتے جس قوم کے اپنے عقیدہ کے مطابق بھی ایسی اناجیل موجود ہیں جن کو خدائی کتابیں کہا جاتا ہے لیکن اُس قوم کے عقیدہ کے مطابق وہ خدا کی کتابیں نہیں ہیں کیا اُس کے افراد قابل ِ ملامت نہیں اور کیا قرآن کریم کا یہ کام نہ تھا کہ اُن کو زجر کرتا اور اُن کے اس عیب کو دنیا کے سامنے لاتا اور اُن مجرموں کی اصلاح کی کوشش کرتا۔وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں چند گنتی کے دنوں کے سوا (دوزخ کی )آگ ہرگز نہ چھوئے گی۔تو (ان سے ) کہہ کیا تم نے اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ اللہ کی بارگاہ سے کوئی عہد لیا (ہوا) ہے (اگر ایسا ہے) تب تو اللہ ہرگز اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا یا تم اللہ کے تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۸۱ متعلق ایسی بات کہتے ہو جس کا تمہیں (کوئی )علم نہیں ہے حَلّ لُغَات۔یُخْلِفُ۔اَخْلَفَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور اَخْلَفَ وَعْدَہٗ کے معنے ہوتے ہیں لَمْ یُتَمِّمْہُ عہد کو پورا نہ کیا۔( اقرب) پس فَلَنْ یُّخْلِفَ عَھْدَہٗ کے معنے ہوں گے۔وہ ہرگز اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا۔تفسیر۔اس آیت میں اُن یہودیوں کا ذکر ہے جن کا یہ عقیدہ تھا کہ یہود خواہ کچھ بھی کریں چونکہ وہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کی اولاد ہیں وہ دائمی عذاب میں مبتلا نہیں کئے جا سکتے۔حق تو یہ ہے کہ یہود نے بائبل میں سے حَیٰوۃُ بَعدَ الْمَمَات کے عقیدہ کو ہی غائب کر دیا ہے۔عذاب و ثواب کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔سارا عہد نامۂ قدیم