تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 224
جملے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو تم سے جب کبھی تمہارے رب کے متعلق گفتگو ہو تو وہ تمہاری بتائی ہوئی باتوں کے ذریعہ سے تم سے بحث کریں یعنی جب یہ سوال پیدا ہو کہ آیا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی سچائی پر خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی کوئی دلیل ہے تو مسلمان لوگ بائبل کی اِن پیشگوئیوں کو نہ پیش کر دیں جو انہوں نے تم سے سُنی ہوں گی۔اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔اِس آیت سے ظاہر ہے کہ اسلام نفاق کو اور اخلاص کے بغیر کسی مذہب کے قبول کرنے کو پسند نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ وہ یہود کے اِس فعل کو کہ وہ پور ایمان حاصل کئے بغیر مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اقرار کرتے تھے بُرا قرار دیتا ہے۔اگر اسلام کے نزدیک صرف زبانی اقرار ایمان کے لئے کافی ہوتا تو چاہیے تھا کہ یہود کی اِن حرکات کی تعریف کی جاتی اور اُن کے لئے ایسے مواقع بہم پہنچائے جاتے کہ وہ مسلمانوں سے اور بھی زیادہ ملیں اور اُن کے سامنے اپنے ایمان کا اقرار کریں۔اس آیت میں اُن لوگوں کا بھی جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے یہودیوں سے سُن سُنا کر بائبل کے واقعات قرآن کریم میں لکھ دیئے ہیں۔ظاہر ہے کہ اِس قسم کا کام کرنے والا شخص اُس ذریعے کو جس سے وہ فائدہ اُٹھاتا ہے بڑھانے کی کوشش کیا کرتا ہے نہ کہ کم کرنے کی۔اگر نَعُوْذُ بِاللہ مِنْ ذَالِکَ رسول کریم صلے اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم یہودیوں سے سُن کر قرآن کریم میں واقعات لکھ لیا کرتے تھے تو آپؐ یہود کے اس فعل کا بھانڈا کیوں پھوڑتے تب تو چاہیے تھا کہ آپ اُن کا بھانڈا پھوڑنے کی بجائے اُن کے لئے ملاقاتوں کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔اَوَ لَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ۰۰۷۸ کیا یہ (اس بات کو) نہیں جانتے کہ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔تفسیر۔اِس آیت میں بھی اِس اعتراض کا جواب موجود ہے جو عیسائی مصنّفین کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم یہودیوں سے سُن کر بائبل کے واقعات قرآن کریم میں نقل کر دیا کرتے تھے۔کیونکہ اس آیت میں اس قسم کے خیالات کی تردید کی گئی ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ضروری خبر اپنے رسول کو خود بتا دیتا ہے۔اور کہا گیا ہے کہ کیا یہودی یہ نہیں سمجھتے کہ اﷲ اسے بھی جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور