تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 223
بھی کرتے رہے ہیں۔مثلاًاِ سی سورۃ میں آگے چل کر آئے گا کہ یہودی لوگ کہتے تھے ابراہیم ؑ یہودی تھا حالانکہ یہودیت موسیٰ ؑ سے چلی بلکہ موسیٰ ؑ سے بھی نہیں۔یہودیت کا نام داؤد علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوا مگر باوجود اس کے وہ کہہ دیتے تھے کہ ابراہیم ؑیہودی تھا۔جب قوموں میں تنزّل پیدا ہوتا ہے تو لوگ اِس قسم کی متضاد اور مخالف باتیں کرنے لگ جاتے ہیں کیونکہ درحقیقت اُن کے ایمان کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہوتی بلکہ سنی سنائی باتوں پر ہوتی ہے اور سنی سُنائی باتیں اوّل تو متضاد خیالات کے لوگوں سے پہنچی ہوئی ہوتی ہیں اِس لئے خود اُن میں تضاد پایا جاتا ہے۔دوسرے جب کوئی شخص عقل کے خلاف بات پر عقیدہ رکھے گا تو اُسے سچا ثابت کرنے کے لئے اِسے عقل کے خلاف باتیں کرنی پڑیں گی۔سچّے دین کو جو آخر میں کامیابی ہوتی ہے اُس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اِس کے اندر تضاد نہیں ہوتا۔جب کبھی کسی اِنسان پر تعصب سے خالی ہونے کی گھڑی آتی ہے وہ سچائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس طرح الہٰی جماعت بڑھتی چلی جاتی ہے۔دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ عِنْدَ کے معنے عربی زبان میں کئی ہیں۔جن میں سے ایک معنے ’’پاس‘‘ کے ہیں اور دوسرے معنے ’’ مطابق حکم‘‘ کے۔چنانچہ عربی زبان میں کہتے ہیں ھٰذا عِنْدَ فُـلَانٍ حَرَامٌ۔یعنی یہ چیز فلاں شخص کے حکم کے مطابق حرام ہے۔اور قرآن کریم میں بھی محاورہ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ سورۂ نور میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اگر کوئی شخص کسی پر زنا کی تہمت لگائے تو چار گواہ ساتھ لائے۔فرماتا ہے فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ( النور:۱۴ ) یعنی الزام لگا نے والے اگر چار گواہ نہ لا سکیں تو وہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جھوٹے ہیں۔یہاں عِنْدَ کے معنے پاس نہیں ہو سکتے کیونکہ بالکل ممکن ہے ایک شخص کسی پر الزام لگائے اور وہ الزام لگانے میں سچا بھی ہو لیکن وہ چار گواہ نہ لا سکے پس گو وہ خدا تعالیٰ کے علم میں سچا ہو گا مگر خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق جھوٹا قرار دیا جائے گا اور اُس کی بات پر اعتبار نہیں کیا جائے گا تاکہ جھوٹے لوگوں کو یہ جرأت پیدا نہ ہو کہ وہ کسی شخص پر بلا ثبوت دشمنی کی وجہ سے جھوٹا الزام لگاویں۔لیکن باوجود اِس کے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے علم میں بھی جھوٹا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ تو بغیر شہادت کے بھی جانتا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔پس اس جگہ پر عِنْدَ اللہ کے معنے ’’ مطابقِ حکم‘‘ کے سوا اور کوئی نہیں کئے جا سکتے۔بعض علماء نے عِنْدَ کے معنے ’’فِیْ ‘‘ کے بھی کئے ہیں اور مراد یہ لی ہے کہ تمہارے رب کے متعلق جب بحث ہو کیونکہ فِیْ کے معنے ’’ بارہ میں ‘‘ بھی ہوتے ہیں (دیکھو بحر محیط زیر آیت محولہ بالا) بعض لوگوں نے اِس جگہ پر مضاف حذف تصوّر کیا ہے جو عربی قواعد کے لحاظ سے جائز ہے وہ کہتے ہیںعِنْدَ رَبِّكُمْسے مراد ہے عِنْدَ ذِکْرِ رَبِّکُمْ۔اور