تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 222
تھے اور کہتے تھے کہ ہماری کتب کی فلاں فلاں پیشگوئیوں کے مطابق بھی محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سچے ثابت ہوتے ہیں۔عِنْدَ رَبِّكُمْ کے الفاظ جو اس آیت میں پائے جاتے ہیں اُن کے متعلق کچھ اشکال پیدا ہوتا ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔عام معنے اِس جملہ کے یہ بنتے ہیں کہ بعض یہودی اپنے دوسرے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ کیا تم مسلمانوں کے پاس وہ پیشگوئیاں بیان کرتے ہو جو تمہاری کتابوں میں بیان ہوئی ہیں یا یہ کہ اُن کے سامنے اقرار کرتے ہو کہ عقلی طور پر تو محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی سچائی ثابت ہوتی ہے مگر کیوں اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ اس کی وجہ سے وہ تمہارے رب کے سامنے تم سے بحث کریں گے اور تم کو مجرم قرار دیں گے۔اِن معنوں پر اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ توعالم الغیب ہے مسلمانوں کے نزدیک بھی اور یہودیوں کے نزدیک بھی۔پھر یہ کیونکرخیال کیا جا سکتا ہے کہ یہودی اپنے ساتھیوں پر اس لئے ناراض ہوتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے دلی یقین یا بائبل کی پیشگوئیوں کا اظہار کیوں کر دیتے ہیں اِس کی وجہ سے مسلمان قیامت کے دن اُن کے خلاف حجت قائم کر سکیں گے۔یہ اعتراض اِسی صورت میں پڑ سکتا ہے جبکہ یہ تسلیم کیا جائے کہ تمام کے تمام انسانوں کا ایمان خدا تعالیٰ پر ایک قسم کا ہے مگر یہ بات درست نہیں۔دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے سوا بندوں کو بھی عالم الغیب قرار دیتے ہیں اور ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو بھی پوری طرح عالم الغیب قرار نہیں دیتے۔چنانچہ قرآن کریم میں کفار کی اس گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے جو قیامت کے دن اُن میں اور خدا تعالیٰ میں ہو گی فرماتا ہے ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ (الانعام :۲۴)یعنی جب کفار پر پوری طرح حجت تمام ہو جائے گی تو اُس وقت وہ ایک ہی جواب کی رٹ لگائے جائیں گے اور ڈھیٹھ بن کر یہی کہتے چلے جائیں گے کہ ہمیں قسم ہے اﷲ اپنے رب کی کہ ہم مشرک نہیں تھے۔عالم الغیب ہستی کے سامنے اِس قسم کا جواب جاہلانہ ہے۔مگر دنیا میں یہ جاہلانہ خیالات پائے جاتے ہیں۔ایسے فلسفی موجود ہیں جو خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر اُس کے علم کو حاوی نہیں سمجھتے۔اس کی طرف کلّی علم کو تو منسوب کرتے ہیں مگر اس بات کے منکر ہیں کہ اُسے تمام جزئیات کا بھی علم ہے۔ایسے لوگوں سے یہ امر بعید نہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوں کہ کیوں تم نے اپنے دلی خیالات کو مسلمانوں پر ظاہر کیا۔یہ قیامت کے دن اِس گواہی کو تمہارے خلاف پیش کریں گے۔اِس قسم کی جہالت یہودی اَور باتوں میں