تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 221

خدا تعالیٰ کا منشاء بے شک پورا نہ ہو لیکن پبلک کی نظر میں یہودیوں کی عزت قائم رہے۔جس قوم کے اخلاق کی یہ حالت ہو جائے وہ دینی طور پر کس مصرف کی ہو سکتی ہے؟ یقیناً اس سے دین اور اخلاق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔اور جہاں تک مذہب اور اخلاق کا تعلق ہے اس قوم کی تباہی میں ہی دین اور دنیا کی بہتری ہے۔پس یہ اخلاقی حالت جو رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے ظہور کے بعد یہودیوں نے پیش کی اس بات کا ایک زبردست ثبوت تھا کہ اب یہ قوم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی مستحق نہ رہی تھی اور خدا تعالیٰ کا نبی اب اِس قوم سے باہر ہی آنا چاہیے تھا۔اِس آیت کے آخر میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔یعنی کیا یہ اِن باتوں سے رُکتے نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان وہ بات کیا کرتا ہے جو اُس کے لئے یا اُس کی قوم کے لئے عزّت کا موجب ہو۔مگر یہ بات جو اُوپر بیان کی گئی ہے اس کا کہنے والا تو صاف لفظوں میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا غدّار ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کو سمجھتا ہے، اُس کی پیشگوئیوں کو سمجھتا ہے۔مگر صاف لفظوں میں اقرار کرتاہے کہ میں خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر نہیں ہونے دوں گا اور خدا تعالیٰ کے منشاء میں روک بنوں گا۔جو شخص اتنا خطرناک دعویٰ اپنے دوستوں کے سامنے کرتا ہے اس کے بے عقل ہونے میں کیا شبہ ہے۔اُس کی مثال تو وہی ہے کہ ع چہ دلاور است دُزدے کہ بکف چراغ دارد اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ اس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ خدا نے جو تم پر کھول دیا یعنی عقلی طور پر یا معجزوں کے ذریعہ سے اسلام کی سچائی کو ظاہر کر دیا۔اور مطلب یہ ہے کہ خواہ تم پر اسلام کی سچائی واضح ہو گئی ہو پھر بھی تم کو یہ بات مسلمانوں کے سامنے بیان نہیں کرنی چاہیے۔دوسرے معنے فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ پیشگوئیاں جو رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کے متعلق بائبل میں بیان ہو چکی ہیں اور جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی ذات میں پوری ہو کر آپ کی صداقت کو ثابت کر رہی ہیں اُن کو کیوں مسلمانوں کے سامنے بیان کرتے ہو۔یہ دونوں معنے ایک ہی وقت میں اِس آیت میں پائے جاتے ہیں۔دونوں قسم کے لوگ یہودیوں میں تھے کچھ وہ جو بائبل کے پوری طرح واقف نہیں تھے لیکن وہ عقلی دلائل سے اور اُن معجزات کے ذریعہ سے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ظاہر ہوئے رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کے دل میں قائل ہو چکے تھے۔اور کچھ وہ لوگ جو بائبل کے ماہر تھے اُن پر اُن پیشگوئیوں کی وجہ سے جو بائبل میں پائی جاتی ہیں اور آپ کی ذات میں پوری ہوئیں آپ کی صداقت کھل گئی تھی۔وہ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو کے موقع پر اُن پیشگوئیوں کا ذکر کر دیتے