تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 213
ُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا (الفتح :۱۰) تاکہ تم اﷲ پر ایمان لاؤ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس ( یعنی رسول ) کی مدد کرو اور اسکی عزّت کرو اور صبح شام اس ( یعنی اﷲ) کی تسبیح کرو۔اس آیت میں پہلے ﷲ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور پھر رسول کا۔لیکن اس کے بعد پہلے دو ضمیریں رسول کی طرف پھیری گئی ہیں اور پھر تیسری ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف پھیری گئی ہے۔یہ مثال بالکل اس آیت کے مضمون کے مطابق ہے آیت زیر تفسیر میں بھی پہلے قُلُوب کا لفظ ہے پھر حِجَارَۃ کا ہے اور یہاں بھی پہلے دو ضمیریں حِجَارَۃ کی طرف جو بعد میں ہے پھیری گئی ہیں اور پھر ایک ضمیر قُلُوب کی طرف جو اس سے پہلے ہے پھیری گئی ہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(البقرة :۲۳۰)اس آیت میں تَأْخُذُوْا کی ضمیر اور طرف گئی ہے اور خِفْتُمْ کی ضمیر اور طرف۔حالانکہ جملہ ایک ہی ہے یعنی تَاْخُذُوْا سے مراد خاوند ہیں اور خِفْتُمْسے مراد دوسرے لوگ ہیں۔پس ایک جگہ پر بیان کردہ ضمائر کو مختلف مرجعوں کی طرف پھیرنا عربی کے لحاظ سے بالکل درست ہے اور اسے اصطلاح میں انتشار ضمائر کہتے ہیں اور اسے نحوی جائز قرار دیتے ہیں۔(جواہر الحسان للثعالبی) وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ اور اﷲ تعالیٰ اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔اس جملہ سے صاف ظاہر ہے کہ ان آیات میں انہی لوگوں کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ کے تھے۔فرماتا ہے تمہارے یہ اعمال اور شرارتیں جو تم رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے خلاف کرتے ہو خدا تعالیٰ کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔وہ ان کے بدلہ میں تمہیں ضرور سزا دے گا۔اَفَتَطْمَعُوْنَ۠ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ (اے مسلمانو)کیا تم امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ کلام کو سنتے ہیں پھر اسے سمجھ لینے کے بعد اس (کے مطلب) کو بگاڑ دیتے ہیں اور وہ( اس عمل کے